67

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ 20پولینگ سٹیشنز کے نتائج میں ردوبدل کا خدشہ ہے اس لئے  این اے75ڈسکہ ، ضلع سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن کا نتیجہ روک لیا۔

ا*الیکشن کمیشن نے این اے 75 کے نتائج روکنے کی وجہ بتا دی …..!!!*

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کے نتائج میں تاخیر اور انہیں روکنے پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔
این اے 75 سیالکوٹ فور کے ضمنی الیکشن کے نتائج غیر ضروری تاخیر کے ساتھ موصول ہوئے اور اس دوران متعدد پریزائیڈنگ افسران کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہوئی۔
ڈی آر او اور آر او کی اطلاع پر چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پنجاب پولیس، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہ ملا۔
کافی کوششوں کے بعد صبح 6 بجے پریزائیڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ہمرا تشریف لائے -!!!’
لیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ 20پولینگ سٹیشنز کے نتائج میں ردوبدل کا خدشہ ہے اس لئے  این اے75ڈسکہ ، ضلع سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن کا نتیجہ روک لیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ این اے75ڈسکہ ، ضلع سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن کے نتائج تاخیر سے موصول ہوئے ہیں ۔ پریذائیڈنگ آفیسرز سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق این اے75کے آر اور ڈی آر او کی اطلاع پر چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پولیس پنجاب اور ڈپٹی کمشنر کے ساتھ رابطے کی بہت بار کوشش کی تاکہ متعلقہ پریذائیڈنگ آفیسرز کا پتہ لگایا جاسکے مگر کوئی جواب نہیں ملا اور آخر کار رات تین بجے چیف سیکرٹری کے ساتھ رابطہ ممکن ہوا جس کے بعد انہوں نے گمشدہ افسران اور پولنگ بیگز کو ٹریس کر کے نتائج کی فراہمی یقینی بنانے کی یقین دہانی کروائی مگر اس کے بعد انہوں نے خود کو عدم دستیاب کر لیا اور کافی تگ و دو کے بعد تقریباً چھ بجے پریذائیڈنگ آفیسرز پولنگ بیگز کے ساتھ حاضر ہوئے ۔ الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسرز نے یہ اطلاع دی کہ 20پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں ردوبدل کا شبہ ہے لہذا مکمل انکوائری کے بغیر حلقہ کے نتائج جاری کرنا ممکن نہیں ہے اور اس ضمن میں ڈی آر اورا یک تفصیلی رپورٹ الیکشن کمیشن کو ارسال کررہا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے ڈی آر اواور آر او کو حلقہ کے غیر حتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے معاملہ کی مکمل انکوائری اور ذمہ داران کے تعین کے لئے ڈی آر او اور آراو کو ہدایات جاری کر دی ہیں جبکہ صوبائی الیکشن کمشنر اور جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اورریٹرننگ آفیسرز کے دفتر پہنچنے کی ہدایت کی ہے تاکہ معاملہ کی تہہ تک پہنچا جا سکے اور ریکارڈ کو مکمل طور پر محفوظ کر لیا جائے ۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتی ہے۔چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ اس پورے معاملہ پر انتظامیہ کے ساتھ رابطہ میں ہیں اور انہوں نے واضح ہدایات دی ہیں کہ جو بھی اس معاملہ میں ملوث ہے اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے جبکہ الیکشن کمیشن نے23فروری کو اس معاملہ پر ایک اجلاس بھی طلب کرلیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں