40

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس (ڈی ایچ آر) نے وزیراعظم، تمام سیاسی جماعتوں اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری لاپتہ افراد کے مسئلے کا مزید کسی تاخیر کے بغیر فوری حل نکالا جائ

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس (ڈی ایچ آر) نے وزیراعظم، تمام سیاسی جماعتوں اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری لاپتہ افراد کے مسئلے کا مزید کسی تاخیر کے بغیر فوری حل نکالا جائے۔بلوچستان کے لاپتہ افراد کی ماوں،بہنوں اور بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ان سے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔تنظیم کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا آج یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ چار دور حکومت گزر چکے ہیں،آخر کیا وجہ ہے یہ مسئلہ حل نہیں ہو رہا؟ہم مظلوم خاندان تھے،ہم نے اس ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا،مشکل ترین حالات میں تحریک چلائی، ہمارے پاس کوئی سرکاری عہدہ بھی نہیں ہے،اسکے باوجود ہماری پندرہ سولہ سالہ جدوجہد کے نتیجے میں 1200 لاپتہ افراد بازیاب ہوئے۔کیا وجہ ہے کہ حکومتیں اس انسانی مسئلے کو حل نہیں کر سکیں ؟ اسکا جواب یہ ہے کہ سیاسی عزم کا فقدان رہا اور حکومتوں نے اس مسئلے کو اہمیت نہیں دی۔ابھی عمران خان وزیراعظم ہیں۔وہ چیف آف آرمی سٹاف سے بات کر سکتے ہیں۔تمام خفیہ ادارے انکے ماتحت ہیں۔کیا وزیراعظم ان اداروں سے اس مسئلے پر دوستانہ انداز میں بھی بات نہیں کر سکتے کہ یہ جمہوری دور ہےاس مسئلے کا حل نکالیں؟ وزیراعظم کو چاہیئے کہ ہمت اور حوصلے کیساتھ خود قدم بڑھائیں۔اگر ہم جیسے بے بس اور بے اختیار لوگ اتنا کچھ کر سکتے ہیں تو وزیراعظم پاکستان کیوں کچھ نہیں کر سکتے؟ہم یہ عذر قبول نہیں کرینگے کہ وہ مجبور ہیں۔یہ جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو ہر ممکن یقین دہانی کرواتے ہیں جب وزیراعظم بنتے ہیں تو کچھ بھی نہیں کرتے۔وزیراعظم صاحب آپ کی جماعت کا نام ہی تحریک انصاف ہے، ان مظلوموں کو انصاف کیوں نہیں مل رہا؟مریم نواز نے یہ بات درست کہی کہ اگر وزیراعظم ان مظلوم ورثاء کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتے تو کیا ان کے سر پر دست شفقت بھی نہیں رکھ سکتے؟
چیئف پرسن ڈی ایچ آر نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ ہونے کی ذمہ دار صرف سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ جج صاحبان بھی قصور وار ہیں۔لاپتہ افراد کے کیسوں کی سماعت کے دوران بڑے اچھے ریمارکس دیئے جاتے ہیں، اداروں پر جرمانے اور ورثاء کی مالی معاونت کے حکم نامے جاری ہو جاتے ہیں لیکن ان حکم ناموں پر عملدرآمد کروانے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ جج صاحبان حکم دیتے ہی کیس نمٹا دیتے ہیں،یہ نہیں دیکھا جاتا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے 2014 تک تو لاپتہ افراد کے معاملے میں فعال کردار ادا کیا لیکن اسکے بعد اپنی جان چھڑا لی۔معاملے کو سرد خانے کی نذر کرنے کیلئے کمیشن کے سپرد کر دیا،کمیشن کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے اور ورثا انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جو درخواستیں سپریم کورٹ میں دی جاتی ہیں انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے۔عدالتیں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں لیکن یہاں انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو انسانی حقوق کے حوالے سے دیکھا جانا چاہئے۔اس مسئلے کو فوری حل ناگزیر ہے تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں