75

صحافت کے لبادے میں چھپے شخص کے خلاف زنا بالجبر کے مقدمے کا اندراج، ملزم کو گرفتار ترجمان اٹک پولیس

تھانہ سٹی اٹک میں صحافت کے لبادے میں چھپے ڈاکٹر لیاقت منیر نامی شخص کے خلاف مسمات ن ج کی درخواست پر زنا بالجبر کے مقدمے کا اندراج، ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ کو حقائق پریکسو کیا جائے گا۔ ترجمان اٹک پولیس کے مطابق مسمات ن ج نے تھانہ سٹی اٹک میں تحریری درخواست دی کہ اسے ڈاکٹر لیاقت منیر نامی شخص نے اسلحہ کے زور پر زنا بالجبر کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتا رہا اور مسلسل پانچ ماہ اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور اس سے لاکھوں روپے بٹورتا رہا وہ اپنی عزت بچانے کے ڈر سے خاموش رہی اور گھر والوں کو نہ بتایا مزید برآں یہ کہ ڈاکٹر لیاقت منیر اسے دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہ اس کی بنائی ہوئی ویڈیو فیس بک پر اپلوڈ کر دے گا اور اس سے مزید رقم کا مطالبہ کر رہا ہے اور اسکے بقول پولیس اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا تعلق شعبہ صحافت سے ہے۔ مدعیہ کی درخواست پر تھانہ سٹی اٹک میں ملزم کے خلاف دفعہ 376 ت پ کے تحت مقدمہ کا اندراج کرلیا گیا ہے۔اس موقع پر ڈی پی او اٹک سید خالد ہمدانی کا کہنا تھا کہ میڈیا معاشرے کا اہم ستون ہے لیکن اس مقدس پیشے کی آڑ لے کر کسی کو عوام الناس کی عزتوں سے کھیلنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے ہیں اٹک پولیس ملزم کو گرفتار کرکے مقدمے کو حقائق پر یکسو کرے گی۔
ڈاکٹر لیاقت منیر قادری نے اپنا ویڈیو بیان جاری کردہا کہ
صحافیوں کے حقوق کے لئے اواز بلند کرنے کی سزا کا مقابلہ کرونگا

اٹک پریس کلب کے چیرمین ندیم رضا خان نے اٹک پولیس کے ترجمان کے پریس ریلیز پر سخت ردعمل دیا ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا امہوں نے کہا کہ
السلام علیکم امید ہے خیریت سے ہوں گے۔ ڈاکٹر لیاقت منیر قادری کے خلاف ڈی پی او کی ہدایت پر جاری ہونے والی پریس ریلیز میں نامناسب الفاظ کا استعمال ان کے میڈیا کے بارے میں ذاتی خیالات کی عکسی کرتاہے۔اور آزادی صحافت پر قدغن ہے۔ ڈی پی او سید خالد ہمدانی یا دیگر افسران کو کسی صورت یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ سنئیر صحافی کے بارے میں بازاری زبان استعمال کریں۔ صحافی پر مقدمہ درج ہوا تو لمبی چوڑی پریس ریلیز جاری کردی ۔ بوٹا گاؤں میں ڈکیتی۔ اور دیگر جرائم پر خاموشی۔ طاہر اعوان کے بیٹے پر جھوٹی ایف آئی آر پر پریس ریلیز کیوں نہیں جاری کی۔ ایک کے ایک وزیر کے اشارے پر ان کے مدمقابل تحریک لیبک پاکستان کے سابق امیدوار پنجاب اسمبلی کو ان کے بھائیوں سمیت قتل کے جھوٹے مقدمہ میں ملوث کردیا گیا دو ایس ایچ او عابدقریشی اورعابد منیر نے میرٹ پر بے گناہ کیا تو دونوں کا تبادلہ سیاسی انتقام کے طور پر راولپنڈی کردیا گیا۔ اس پر پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔ تمام صحافی حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی آزاد رائے چاہیے وہ میری رائے کے برعکس ہو ضرور تحریر کریں۔ اور آئندہ کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کرنے کے لئے رہنمائی فرمائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں