89

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ پولنگ سے گرفتار پی ٹی آئی کے ارخان ادمبلی کا وزیر اعلی ہائوس کے سامنے احتجاجی دھرنا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما، اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ مجھ سے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے حکم پر سیکیورٹی واپس لی گئی۔حلیم عادل کی جانب سے ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ بطور اپوزیشن لیڈر مجھے سیکیورٹی دی جانی چاہیے تھی، الیکشن کے دوران میں حلقے سے باہر تھا لیکن میرے ورکرز پر حملہ کیا گیا، میں پھر حلقے میں گیا تو مجھ پر حملہ کیا گیا۔حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ میرے گارڈز نے ہوائی فائرنگ کر کے حملہ آوروں کو روکا، اِنہوں نے الیکشن متاثر کرنے کے لیے مجھے تنگ کیا۔انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ ہمارے کارکنان کو اسٹیشنز سے باہر نکالا اور دھکے دیئے گئے، سازش کے تحت الیکشن پی پی نے گھیرنے کی کوشش کی ہے۔حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ  میں کسی کو چھوڑوں گا نہیں، ایک ایک عمل کا حساب لیا جائے گا، مجھے حلقہ بدر کیا مگر ایس پی آفس سے باہر نہیں جانے دیا جارہا۔حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ میرے گارڈز کو پولیس نے پکڑ لیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحلیم عادل شیخ نے الزام لگایا ہے کہ بلاول کے کہنے پر مراد علی شاہ نے پی ایس 88 کراچی میں کرمنلز کو بلایا ہے، پیپلز پارٹی کا کرمنل گینگ ہم پر حملہ کرسکتا ہے۔منگل کو پی ایس 88 کراچی میں ضمنی انتخاب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ یہاں لوگ 50 سال سے پیپلزپارٹی کو ووٹ دے رہے تھے، ملیر کی زمینوں پر قبضے ہوگئے، بلاول کے کہنے پر مراد شاہ نے یہاں کرمنل لوگ منگوائے ہیں، پولیس کی مدد سے کوئی مسئلہ کھڑا کیا جائے گا، ڈی جی رینجرز اور دیگر ادارے ان پر نظر رکھیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ مراد علی شاہ نے اعتراف جرم کیا ہے کہ ہم سینیٹ کی 10 سیٹیں لیکر سرپرائز دیں گے، ان کے سینیٹ کی سیٹوں سے متعلق بیان پر پٹیشن دائر کریں گے۔
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے خلاف ریٹرننگ آفیسر سینیٹ الیکشن کو تحریری درخواست ارسال کر دی۔حلیم عادل شیخ کی جانب سے دی گئی درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ 14 فروری کو وزیر اعلی نے نیشنل میڈیا کے سامنے سینیٹ انتخابات میں سندھ سے ووٹوں سے زیادہ دس سیٹیں حاصل کرنے کا بیان دیا۔درخواست میں کہا گیا کہ وزیر اعلی سندھ الیکشن رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں ملوث ہوئے ہیں۔ ووٹوں سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کا بیان دیکر وزیر اعلیٰ کرپٹ پریکٹس میں ملوث ثابت ہوئے ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وزیر اعلی نے سندھ سے 10 سیٹیں حاصل کر کے وفاقی حکومت کو سرپرائز دینے کا بیان دیا تھا، وزیر اعلی سندھ کو ممبر صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے نااہل قرار دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی کاسینیٹ انتخابات میں ووٹوں سے زیادہ سیٹیں لینے کا بیان اعتراف جرم ہے، وزیر اعلی سندھ سینیٹ انتخابات میں خرید و فروخت کرنے کا اعتراف کر چکے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وزیر اعلی کے اس بیان کو سپریم کورٹ میں بطور ثبوت پیش کیا جائے گا۔

اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کے ساتھیوں نے ایس ایس پی ملیرکے دفتر کا دروازہ توڑ نے کی کوشش کی ، جس کے بعد پولیس کی مزید نفری ایس ایس پی ملیر کے دفترپہنچ گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کے ساتھیوں نے ایس ایس پی ملیرکے دفتر میں ہنگامہ آرائی کی اور ڈنڈابردارمشتعل افراد کی جانب سے دروازہ توڑ نے کی کوشش کی گئی اور لوہے کے مرکزی دروازے کو باہر سے لاتیں ماری گئیں۔صورتحال کی پیش نظر پولیس کی مزید نفری ایس ایس پی ملیر کے دفترپہنچ گئی جبکہ واٹرکینن بھی طلب کرلی ہے۔دوسری جانب حلیم عادل شیخ اورساتھیوں کیخلاف تھانہ میمن گوٹھ میں درخواست جمع کرادی گئی ہے ، پی پی عہدیداران نجم جوکھیو،عزیز اللہ جوکھیو وردیگر نے درخواست جمع کرائی، درخواست میں میں حلیم عادل شیخ کی سربراہی میں پولنگ پر مسلح حملے کا ذکر ہے
ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حلیم عادل شیخ کو باقاعدہ حراست میں لے لیا گیا ہے، وہ پولیس کی تحویل میں ایس ایس پی ملیر آفس میں موجود ہیں۔ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے مطابق حلیم عادل کو الیکشن کمیشن کے حکم پر باقاعدہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہیکہ حلیم عادل شیخ پر ہنگامہ آرائی اور دیگر مقدمات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔پولیس کے مطابق حلیم عادل شیخ کو ایس ایس پی ملیر کے آفس میں رکھا گیا ہے جب کہ ان کے ہمراہ دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔ڈی آئی جی ایسٹ کا کہنا ہیکہ انتخابی حلقے میں فائرنگ کرنے والے متعدد افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔۔عرفان بہادر کا کہنا تھا کہ دیکھا جائے گا کہ گرفتاری کس دفعات کے تحت کی جائے ، میمن گوٹھ تھانے میں ممکنہ طور پر مقدمہ درج کیا جائے گا ، حلیم عادل شیخ کیسوا تمام رہنماں کو جانے کی اجازت ہے
صوبائی وزرائسید ناصر حسین شاہ اور سعید غنی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کو سندھ کے دو حلقوں میں منگل کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں حتمی ہار نظر آرہی ہے، اسی لئے انہوں نے حلقہ پی ایس 88 میں دہشتگردی کرتے ہوئے پولنگ کے عمل کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ الیکشن کمیشن پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حلیم عادل شیخ کے خلاف تمام تر شواہد کی موجودگی کے بعد اس کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کار سرکار میں مداخلت اور دہشتگردی کے الزام میں عائد کروائے۔ پولیس، رینجرز اورلوکل ایڈمنسٹریشن سمیت تمام ادارے الیکشن والے دن الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ان دونوں صوبائی وزراء نے منگل کو کیمپ آفس میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ اسکول سے باہر کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے منگل کی صبح سے ہی اپنے 40 سے 50 مسلح دہشتگردوں کے ساتھ پی ایس88 کے پولنگ اسٹیشنوں پر جاکر وہاں کے عملے، ووٹرز اور یہاں تک کے پولیس کو بھی دھمکیاں دینا شروع کیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام کی درجنوں ویڈیو کلپس موجود ہیں، جس میں وہ اپنے ان مسلح افراد کے ساتھ جا جا کر سب کو ہراساں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مسلسل رابطہ بنائے رکھا لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی اور دوپہر 1 بجے الیکشن کمیشن نے ایک خط جاری کیا کہ حلیم عادل شیخ کو حلقہ سے باہر نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے قوائد و ضوابط کے خلاف پی ٹی آئی کے کئی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اس حلقہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن پر اثر انداز ہونے کے لئے اپنے مسلح افراد کے ساتھ گھومتے نظر آرہے ہیں اور یہ الزامات نہیں بلکہ اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور متعلقہ ڈی آر او کو قوائط و ضوابط کی خلاف ورزی اور مسلح افراد کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں میں دندناتے پھرتے حلیم عادل شیخ کے خلاف خود ایف آئی آر کا اندراج کرانا چاہیے اور یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری علاقائی قیادت کی جانب سے متعلقہ تھانے میں اس حوالے سے درخواست بھی جمع کرائی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان وزرائ  نے کہا کہ جوکھیو گوٹھ میں حلیم عادل شیخ نے مسلح افراد کے ساتھ وہاں دھاوا ڈالا اور وہاں نہتے ووٹرز اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر جدید اسلحہ سے فائرنگ کروائی، جس کے نتیجہ میں متعدد افراد کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ایک کیمرہ مین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ضمنی الیکشن کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور آج جو کچھ ہوا اس پر الیکشن کمیشن کو ایکشن لینا چاہیے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ایس 88 اور پی ایس 43  میں پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی اور یہی خوف پی ٹی آئی اور ان کے اسکول سے باہر اپوزیشن لیڈر اور دیگر ایم پی ایز کو ستائے جارہا ہے اور اسی لئے انہوں نے اس حلقہ میں پولنگ کے عمل کو متاثر کرنے اور ووٹروں میں خوف و ہراس پھیلانے کے لئے صبح سے ہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردئیے ہیں

پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ پی ایس 88 میں جو ہوا وہ پورے میڈیا نے دکھایا۔ پیپلزپارٹی کا اصل چہرہ سب کے سامنے آگیا ہے، پیپلز پارٹی جعلی ایف آئی آر اور دھونس دھمکی کے ذریعے مخالفین کو ڈرانے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک شخص پر کیس ہوتا ہے تو اس میں 200 کے نام ڈال دیے جاتے ہیں۔پورا دن ہم نے یہی ماحول دیکھا۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں نے دیہی علاقوں کے پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی کی، ہماری پارٹی کی خواتین کو حراساں کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے غنڈوں نے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو یرغمال بنایا۔ ٹھپے لگانے کی وڈیوز سامنے آئی ہیں، دیہی علاقوں میں دھاندلی شروع ہوئی تو ہم وہاں اپنے ورکرز کی فکر کے لیے گئے، وہاں پی پی کے غنڈے پہلے پہلے سے تیار تھے۔انہوں نے پتھراؤ اور ہلڑبازی کی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوپی ایس 88کے مرکزی الیکشن آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ پی ایس 88کے امیدوار جانشیر جونیجو، سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلال غفار، اراکین سندھ اسمبلی سعید آفریدی، شہزاد قریشی، رابستان خان،کریم بخش گبول، رکن قومی اسمبلی صائمہ ندیم، پی ٹی آئی رہنما سمیر میر شیخ اور دیگر رہنما و کارکنان موجود تھے۔خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ پورے معاملے میں کہیں بھی ہمیں قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں نظر نہیں آئے۔ ہم نے کہیں بھی الیکشن کمیشن کو نوٹس لیتے ہوئے نہیں دیکھا۔ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔ان کے ساتھ لوگوں کو بھی خطرہ ہے۔ابھی تک ہمیں معلوم نہیں انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے حکم پر انہیں گرفتار کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کو شہر کراچی اور تحریک انصاف سے خطرہ ہے۔ پیپلز پارٹی نے صوبے بھر میں لوٹ مار مچائی ہوئی ہے۔صوبے کا وزیراعلیٰ نالائق اعلیٰ ہے۔مراد علی شاہ نے  ایس ایس پی اور ایس ایچ اوز کے ذریعے پی ایس 88میں دھاندلی کروا ئی۔جانشیر جونیجو نے جو مہم چلائی پیپلز پارٹی اس سے خوفزدہ تھی۔ اگرپیپلز پارٹی کچھ کام کرتی تو یہ دو نمبر کام نہیں کرنا پڑتا۔ووٹنگ کے دوران پیپلز پارٹی کے لوگوں کے پاس اسلحے موجود تھے۔ حلیم عادل شیخ کرپشن کے خلاف بات کرتے ہیں اس لئے انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کے رزلٹ سے قبل ہی یہ متنازع بن چکا ہے۔ آج کا الیکشن مکمل غیر شفاف ہے، یہ باتیں میں نہیں بلکہ الیکشن میں حصہ لینے والی ساری جماعتیں یہ بول رہی ہیں۔ یہاں سرکاری وسائل استعمال ہوتے رہے۔یہ عوام کا پیسہ لٹاتے رہے۔محکمہ تعلیم کے ملازم حلقے میں پولنگ ایجنٹ بنے ہوئے تھے۔ وہ سیاسی معاملات میں عمل دخل کررہے تھے۔ یہ مراد علی شاہ کی بدمعاشی ہے۔سندھ کے لوگ جانتے ہیں یہ بینظیر کی جماعت نہیں۔آج صوبے میں تباہی آچکی ہے۔ہم اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔سب وزرائ  مہم میں موجود تھے۔ہمیں انہیں معاف نہیں کریں گے۔ ہم شہر بھر میں احتجاج کریں گے۔اس موقع پر پی ایس 88سے پی ٹی آئی کے امیدوار جانشیر جونیجو کا کہنا تھا کہ آج جو تماشا پیپلز پارٹی نے لگایا ہوا تھا وہ پورے میڈیا نے دکھایا۔ چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ووٹ کاسٹ کروائے گئے۔پیپلز پارٹی نے حلقے میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا، یہ عوام کے مینڈیٹ پر حملہ ہے۔ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ سمیت ہمارے کارکنان پر حملے ہوئے ہیں۔ ہم نے متعدد بار الیکشن کمیشن کو شکایات درج کروائیں لیکن کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ ہم ہمیشہ عوام کے حقوق کے لئے لڑتے رہیں گے۔

حلیم عادل شیخ نے پرائیوٹ گارڈز اور مسلح افراد کے ہمراہ انتخابی حلقے میں گشت کیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخاب کے دوران پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے اسلحے کی نمائش کی اور خوف و ہراس پھیلا یا۔کراچی کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کی شکایت پر الیکشن کمیشن نے ایکشن لے لیا جس کے حکم پر پولیس نے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کو انتخابی حلقیسے باہر نکال دیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سعید غنی نے حلیم عادل شیخ کے ویڈیو بیان میں لگائے گئے الزام کے جواب میں ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ حلیم عادل شیخ نے پرائیوٹ گارڈز اور مسلح افراد کے ہمراہ انتخابی حلقے میں گشت کیا۔انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ اسلحے کی نمائش کرتے اور خوف و ہراس پھیلاتے رہے، وہ پولیس اور انتظامیہ کو دباو میں لانے کی کوشش بھی کرتے رہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ایم پی ایز اور ایم این ایز پرامن الیکشن کا ماحول سبوتاژ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی گھنٹے بعد بھی خاموشی الیکشن کمیشن کی بے بسی ظاہر کرتی ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اپنی یقینی شکست نظر آ رہی ہے۔سعید غنی کا کہنا ہے کہ اسی لئے پی ٹی آئی الیکشن کا عمل مشکوک بنانے کی کوشش کر رہی ہے، الیکشن کمیشن فوری نوٹس لے اور ان لوگوں کو حلقے سے باہر نکا لے۔علاوہ ازیں صوبائی وزیر سید ناصر شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ مسلح جتھہ حلیم عادل شیخ کی قیادت میں ضمنی انتخاب کے حلقے میں گیا جس نے فائرنگ کی، پی ٹی آئی کو یقین ہے کہ یہ الیکشن بری طرح سے ہار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حلیم عادل شیخ کو نکالنے کا اقدام دیر سے اٹھایا ہے، پیپلز پارٹی نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے تھانے میں درخواست دی ہے، حلیم عادل شیخ پہلے بھی حلقے میں جاتے رہے ہیں، فائرنگ کرنے والے ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں۔سعید غنی کا مزید کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ نے پوری کوشش کی کہ حلقیکو بند کرایا جائے، پیپلز پارٹی نے اس عمل کے خلاف درخواست دی ہے، الیکشن کے دن سب ڈی آر او کے حکم کو ماننے کے پابند ہوتے ہیں، ہم الیکشن پرامن ماحول میں چاہتے تھے، کسی پولنگ اسٹیشن میں ہمارا کوئی مسلح شخص نہیں گیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے اپنی ذمیداری پوری کی ہے، الیکشن کمیشن بھی اپنی ذمے داری پوری کرے، فائرنگ کرنے والوں کی ویڈیوز ہیں، گولیوں کے خول ہیں، الیکشن کمیشن کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ کارروائی کرے، پارٹی کے عہدے داروں نے ایف آئی آر کے لیے تھانے میں درخواست دی ہے، حلیم عادل شیخ ووٹرز کو ڈرانا چاہتے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں