71

میرے کیس میں جواب وزارت دفاع نےنہیں کسی اورنےلکھا،ملک دشمنی کا الزام لگانے والے ثابت کریں،اسکےاداروں پر اثرات ہوں گے، آپ کو نہیں پتہ جج کیوں معذرت کرتے؟ اسد درانی

‏اسلام آباد ہائیکورٹ،اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے کیس پر سماعت،جسٹس محسن کیانی نےاچانک سماعت سے معذرت کرلی

میرے کیس میں جواب وزارت دفاع نےنہیں کسی اورنےلکھا،ملک دشمنی کا الزام لگانے والے ثابت کریں،اسکےاداروں پر اثرات ہوں گے، آپ کو نہیں پتہ جج کیوں معذرت کرتے؟ اسد درانی

‏یہ ہو کیا رہا ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کس سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کے کیس کی سماعت سے انکار
سارا بیک گراونڈ جانتا ہوں فیصلہ لکھنے کے مرحلے میں تھا،
ایسے افسوس ناک واقعات ہوئے کہ میں کیس چھوڑ رہا ہوں
کیس نئی بنچ کے لئے چیف جسٹس کو بھیج رہا ہوں

سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کیس میں نیا موڑ آگیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس پر مزید سماعت سے معذرت کر لی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ کیس کا سارا پس منظر جانتا ہوں، فیصلہ بھی لکھنے کے مرحلے میں تھا، میں یہ کیس چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھیج رہا ہوں، یہ افسوسناک ہے لیکن کچھ ایسی وجوہات ہیں جو بتانا نہیں چاہتا ، چیف جسٹس ہی اس کیس پر سماعت کے لیے نئے بنچ کا فیصلہ کریں گے۔

گزشتہ سماعت پر وزارت دفاع کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخل کروائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا تھا کہ اسد درانی 2008 سے دشمن عناصر بالخصوص بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے رابطوں میں رہے۔ ان کا نام ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث ایگزٹ کنٹرول لسٹ( ای سی ایل) میں شامل کیا گیا
.
اسد درانی نے انڈین خفیہ ادارے را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ مل کر ایک کتاب لکھی ہے جس میں حساس مواد بھی شامل ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اخترکیانی نے سابق سربراہ آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت سے معذرت کرتے ہوئے نئے بنچ کی تشکیل کے لیے کیس واپس چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھجوا دیا ہے۔ وزار ت دفاع نے عدالتی نوٹس پر تحریری جواب جمع کرایا تھا کہ اسد درانی کا نام ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث ای سی ایل میں شامل کیا گیا، وہ 2008 سے دشمن عناصر بالخصوص بھارتی خفیہ ایجنسی را سے رابطوں میں رہے،پاکستان کے مفادا ت کے خلاف کتاط لکھی، انکوائری حتمی مرحلے میں ہے، اس سٹیج پر نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق سربراہ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر مزید سماعت سے معذرت کرتے ہوئے معاملہ نئے بنچ کی تشکیل کے لیے واپس چیف جسٹس کو بھجوا دیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کیس کا سارا بیک گراونڈ جانتا ہوں، فیصلہ بھی لکھنے کے مرحلے میں تھا، یہ افسوسناک ہے لیکن کچھ ایسی وجوہات ہیں جو بتانا نہیں چاہتا، میں یہ کیس چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھیج رہا ہوں، وہ اس کیس پر سماعت کے لیے نئے بنچ کا فیصلہ کریں گے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ کے ساتھ مشترکا کتاب لکھنے پر اسد درانی کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا جس فیصلے کے خلاف انہوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ وزارت دفاع نے عدالتی نوٹس پر تحریری جواب جمع کرارکھا ہے کہ سابق سربراہ آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث ای سی ایل میں شامل کیا گیا، وہ32 سال پاکستان آرمی کا حصہ رہے اور اہم و حساس عہدوں پر تعینات رہے، 2008 سے دشمن عناصر بالخصوص بھارتی خفیہ ایجنسی را سے رابطوں میں رہے، اسد درانی کے خلاف انکوائری حتمی مرحلے میں ہے، اس سٹیج پر ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا۔ سابق سربراہ آئی ایس آئی نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف کے ساتھ مل کر کتاب لکھی، کتاب کا سیکورٹی لحاظ سے جائزہ لیا گیا اورانکوائری بورڈ کے مطابق کتاب کا مواد پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں