86

میں نے اکیلے محصور رہنے کا فیصلہ کیا، ایکشن لیتا تو کہتے اپنے ہی ایڈووکیٹس کے خلاف کارروائی کروائی، چیف جسٹس اطہر من اللہ

‏مجھے کہا گیا کہ آپ کو یہاں سے نکالتے ہیں، میں نے ہائی کورٹ سے جانے کے بجائے ساڑھے تین گھنٹے یرغمال رہ کر سامنا کیا، ہمیشہ متعلقہ اتھارٹیز کو معاملات کے حل کے لیے ترجیح دی، اس معاملے میں بھی اتھارٹی بار کونسل ہے انہیں اس معاملے کو دیکھنا چاہیے، چیف جسٹس اطہر من اللہ
‏مجھے ساڑھے تین گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا گیا، ایکشن لے سکتا تھا میں نے اکیلے محصور رہنے کا فیصلہ کیا،
ایکشن لیتا تو کہتے اپنے ہی ایڈووکیٹس کے خلاف کارروائی کروائی، چیف جسٹس اطہر من اللہ کا ایک کیس کی سماعت کے دوران سانحہ ہائیکورٹ پر شرمندگی کا اظہار کرنے والے وکلا سے مکالمہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالت میں توڑ پھوڑ میں ملوث 17 وکلا کے خلاف توہین عدالت کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا۔کیس کی سماعت 18 فروری کو ہوگی،واضح رہے کہ 9 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں توڑ پھوڑ میں ملوث وکلا کے خلاف مقدمہ درج اور ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس ضمن میں رونما ہونے والی تازہ پیش رفت کے مطابق رجسٹرار آفس سے شوکاز لسٹ جاری کی گئی جس میں وکلا ء کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کا تذکرہ ہے۔شوکاز لسٹ میں کہا گیا کہ کیس کی سماعت 18 فروری کو ہوگی۔جاری کردہ شوکاز لسٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام 17 وکلا سے تحریری وضاحت سمیت ذاتی حیثیت میں طلب ہونے کی ہدایت کی۔شوکاز نوٹس میں وکلا کو مخاطب کرکے کہا کہ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔علاوہ ازیں نوٹس کے مطابق چیف جسٹس بلاک کا مرکزی دروازہ توڑا اور سیکورٹی عملے پر حملہ کیا، آپ اس ہجوم کا حصہ تھے جس نے چیف جسٹس اور دیگر ججز کو یرغمال بنایا۔اس میں کہا گیا کہ آپ کی وجہ سے عدالتی کارروائی کئی گھنٹوں تک معطل رہی اور آپ کے اس عمل سے سائلین انصاف تک رسائی سے محروم رہے۔اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت پر وکلا کے دھاوے کے بارے میں ریمارکس دیے تھے کہ دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اِس واقعے کے ذمہ داران کو مثال بنایا جائے۔وکلا کے اسلام ہائی کورٹ پر دھاوا بولنے کے تیسرے روز بدھ کو عدالتیں کھلیں تو ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ مجھے ساڑھے 3 گھنٹوں تک یرغمال رکھا گیا، میں ایکشن لے سکتا تھا لیکن میں نے اکیلے محصور رہنے کا فیصلہ کیا اور ہائی کورٹ سے جانے کے بجائے ساڑھے 3 گھنٹوں تک یرغمال رہ کر سامنا کیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دیے تھے کہ وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملہ کر کے سب کو راستہ دکھایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں