56

وکلا کی جانب سے توڑ پھوڑ اور احتجا ج کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ تاحکم ثانی بند رکھنے کا فیصلہ

ایف  ایٹ کچہری میں وکلا کے غیر قانونی چیمبر گرائے جانے کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکلا کی جانب سے توڑ پھوڑ اور احتجا ج کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ تاحکم ثانی بند رکھنے کا فیصلہ ۔۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے عدالتی عملے کے مطابق  چیف جسٹس اطہر من اللہ نے احکامات جاری کر دیے۔وکلا کے احتجاج بعدچیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت   دوسرے ججز، ڈی سی اسلام آباد، رینجرز کمانڈر، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سمیت بار روم کے ارکان کے درمیان  ہونے والے مذاکرات بھی ہوئے جو بےنتیجہ رہے ۔اس سے پہلےوکلا نے  ایف ایٹ کچہری میں  پارکنگ اور فٹ پاتھ پر بنے  غیر قانونی چیمبر   گرائے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے  اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بلاک میں توڑ پھوڑ کی  ۔وکلا نے چیف جسٹس کے خلاف نعرے بازی کی ،پولیس اور صحافیوں سے بدتمیزی کی  انہیں دھکے دیے اور آپے سے باہر ہو گئے۔وکلاء نے اسلام آبادکی ضلع کچہری میں  تمام عدالتیں  بند کرادیں ، عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی کارروائی روک دی گئی ،تمام سائلین کا  احاطہ عدالت میں داخلہ بند  کرادیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی سروس روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔مشتعل وکلاء کا مطالبہ تھا  کہ جب تک ہمارے چیمبر دوبارہ نہیں بنائے جاتے کوئی بات نہیں کرینگے۔ کسی بھی نا خوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر کے باہر پولیس کے  کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ اور رینجرز کے اہلکاروں کو  تعینات کر دیا گیا۔اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے قائد اعظم ہال میں وکلاء کوبلا کر  کہا کہ چیف جسٹس آپ کی طاقت ہیں آپ نے انکے کمرے میں جا کر جو کیا ،اس کا  کیا کوئی جواز  تھا۔ آپ نے اپنے ہی چیف جسٹس کا چیمبر توڑ دیا اور انہیں گالیاں دیں،یہ باتیں اچھی نہیں ہیں اور اس کے نتائج آئیں گے۔ ایف  ایٹ کچہری میں وکلا کے غیر قانونی چیمبر گرائے جانے کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکلا کی جانب سے توڑ پھوڑ اور احتجا ج کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ تاحکم ثانی بند رکھنے کا فیصلہ ۔۔۔


اسلام آباد ہائی کورٹ کے عدالتی عملے کے مطابق  چیف جسٹس اطہر من اللہ نے احکامات جاری کر دیے۔وکلا کے احتجاج کے بعدچیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت   دوسرے ججز، ڈی سی اسلام آباد، رینجرز کمانڈر، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سمیت بار روم کے ارکان کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے جو بےنتیجہ رہے ۔اس سے پہلےوکلا نے  ایف ایٹ کچہری میں  پارکنگ اور فٹ پاتھ پر بنے  غیر قانونی چیمبر   گرائے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے  اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بلاک میں توڑ پھوڑ کی  اور چیف جسٹس کے خلاف نعرے بازی کی ۔وکلا نےپولیس اور صحافیوں سے بدتمیزی  بھی کی   اورانہیں دھکے دیے ۔وکلاء نے اسلام آبادکی ضلع کچہری میں  تمام عدالتیں  بند کرادیں ،

وکلا گردی اسلام آباد ہائیکورٹ

عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی کارروائی روک دی گئی ،تمام سائلین کا  احاطہ عدالت میں داخلہ بند  کرادیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی سروس روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔مشتعل وکلاء کا مطالبہ تھا  کہ جب تک ہمارے چیمبر دوبارہ نہیں بنائے جاتے مذاکرات نہیں کرینگے۔ کسی بھی نا خوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر کے باہر پولیس کے  کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ اور رینجرز کے اہلکاروں کو  تعینات کر دیا گیا۔اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے قائد اعظم ہال میں وکلاء کوبلا کر  کہا کہ چیف جسٹس آپ کی طاقت ہیں آپ نے انکے کمرے میں جا کر جو کیا ،اس کا  کیا کوئی جواز  تھا۔ آپ نے اپنے ہی چیف جسٹس کا چیمبر توڑ دیا اور ان کی عزت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا ،یہ باتیں اچھی نہیں ہیں اور اس کے نتائج آئیں گے۔


: رینجر افسر کچھ اہلکاروں کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے رینجر افسر اور اہلکاروں کو وکلا نے چیف جسٹس بلاک کے دروازے پر روک لیا وکلا کی رینجر افسر کے ساتھ بھی بدتمیزی سینئر وکیل کے ساتھ کیسے بات کر رہےہو،وکلا کا رینجر افسر سے مکالمہ چیف کمشنراسلام آباد و چیرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر وفاق دارالحکومت میں غیرقانونی تعمیرات و تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف اپریشن سی-ڈی-اے کا اسلام آباد انتظامیہ اور پوليس کے ہمراہ ایف-8 مرکز میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن تمام نئے غیر قانونی تجاوزات و تعميرات کو مسمار کردیا گیا، سی ڈی اے انتظامیہ ایف ایٹ کچہری میں سرکاری زمین پر قائم وکلاء چیمبرز کے خلاف اپریشن کیا گیا اپریشن میں پولیس اور سی ڈی اے انفورسمنٹ نے حصہ لیا وکلاء چیمبر مسمار کرنے کے لئے افسران اور فیلڈ سٹاف نے رات گئے اپریشن کیا گزشتہ روز دن میں اپریشن  کرنے سے قبل وکلاء خبردار ہوگئے اور اپریشن کو روکا گیا جسٹس محسن اختر کیانی کا قائد اعظم ہال میں وکلاء سے خطاب پ لوگوں کے ساتھ جو ہوا میں آپ کے ساتھ ہوں ،جسٹس محسن اختر کیانی آپ کے لوگ چیف جسٹس صاحب کی عدالت کے باہر سے یہاں آجائیں ،جسٹس محسن اختر کیانی جب تک وہ یہاں نہیں آئیں گے، چیف جسٹس صاحب یہاں نہیں آسکتے،جسٹس محسن اختر کیانی آپ لوگوں کے چار سے پانچ چیمبرز کا مسئلہ تھا جو بیٹھ کر حل ہو سکتا تھا ،جسٹس محسن اختر کیانی پہلے بھی کہا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ حل کریں،جسٹس محسن اختر کیانی

صدر اور سیکرٹری بار تعاون کریں اور تمام وکلاء کو یہاں ہال میں جمع کروائیں ، جسٹس محسن اختر کیانی

یہ تُک نہیں بنتی تھی آپ لوگوں نے اندر آکر تھوڑ پھوڑ شروع کر دی، جسٹس محسن اختر کیانی
پہلے جو لوگ اغواہ ہوئے انھیں بازیاب کروایا جائے ،وکلاء کا مطالبہ

پہلے بھی کہہ چکا ہوں جو لوگ مسنگ ہیں انکے نام دے دیں ، ابھی آرڈر کردینگے، جسٹس محسن اختر کیانی: ہمارے گرفتار وکلاء کو تھانہ سیکریٹریٹ میں بند کیا گیا ہے، وکلاء کا احتجاج

جسٹس محسن اختر کیانی نے ایس ایس پی کو تمام وکلاء اور پرائیویٹ گرفتار لوگوں کو رہا کرنے کا حکم دیدیا

میں آپکو آرڈر کر رہا ہوں تمام لوگوں کو رہا کریں، جسٹس محسن اختر کیانی کی ایس ایس پی سے ٹیلی فونک گفتگو

جو چیمبرز کچہری کے اندر ہیں انکو گرانا صرف بار کے صدر اور سیکرٹری کا کام ہے، جسٹس محسن اختر کیانی

جو چیمبرز عدالتوں کے پاس بنے ہیں میں ان کے حوالے سے نہیں کہہ رہا، جسٹس محسن اختر کیانی

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے چیمبر کو وکلاء نے کیوں توڑا، جسٹس محسن اختر کیانی کا وکلاء سے سوال

آپ نے ڈپٹی کمشنر کا دفتر یا تھانہ تو نہیں توڑا، جسٹس محسن اختر کیانی

آپ نے چیف جسٹس کو بتانا تھا لیکن اگر ایسے توڑ پھوڑ کر کے بتائیں گے تو مسئلہ کیسے حل ہو گا، جسٹس محسن اختر کیانی

چیف جسٹس آپ کی طاقت ہیں آپ نے انکے کمرے میں جا کر جو کیا اس کا کوئی جواز نہیں تھا، جسٹس محسن اختر کیانی

ڈپٹی کمشنر کو بلا کر پوچھوں گا کہ جو چیمبر غلط طور پر گرائے گئے وہ کس کے حکم پر گرائے گئے، جسٹس محسن اختر کیانی

آپ آ کر ہمیں بتاتے تو سہی کہ آپ کے ساتھ ہوا کیا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی کا خطاب

آپ نے اپنے ہی چیف جسٹس کا چیمبر توڑ دیا اور انہیں گالیاں دیں، جسٹس محسن اختر کیانی

یہ باتیں اچھی نہیں ہیں اور انکے نتائج آئیں گے، جسٹس محسن اختر کیانی

لوگ جوڈیشری اور وکلاء کے ویسے ہی خلاف ہیں وہ اس کا فائدہ اٹھائیں گے، جسٹس محسن اختر کیانی

اپنے صدر اور سیکرٹری سمیت کسی کی توہین نہ کریں، جسٹس محسن اختر کیانی

سب وکلاء نے بدتمیزی کی لیکن چیف جسٹس نے کوئی ایک بات نہیں کی، جسٹس محسن اختر کیانی

میں نے چیف جسٹس کو واضح بتایا ہے کہ میں اپنے وکلاء کو نہیں چھوڑ سکتا، جسٹس محسن اختر کیانی

اسلام آباد پولیس کی جانب سے ہائی کورٹ کے باہر کام کرنے والے صحافیوں کو دہکے،  بدتمیزی

پولیس نےصحافیوں کو ہائیکورٹ کے باہر سے فوٹیج بنانے سے روک دیا

صحافیوں کو وکلاء اور پولیس دونوں کی طرف سے مشکلات کا سامنا: سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر اور چیف کمشنر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے

آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمٰن  بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے: *اسلام آباد ہائیکورٹ*


سی ڈی اے کی جانب سے ایف ایٹ کچہری میں  پارکنگ اور فٹ پاتھ پر بنے  غیر قانونی چیمبر   گرائے جانے کے خلاف وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑا دیں ۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بلاک میں وکلا نے  کھڑکیوں کے شیشے توڑ دئیے اور توڑ پھوڑ کی۔وکلا نے چیف جسٹس کے خلاف نعرے بازی کی ،پولیس اور صحافیوں سے بدتمیزی کی  انہیں دھکے دیے اور آپے سے باہر ہو گئے۔
وکلاء نے اسلام آبادکی ضلع کچہری میں  تمام عدالتیں  بند کرادیں ، عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی کارروائی روک دی گئی ۔ تمام سائلین کا  احاطہ عدالت میں داخلہ بھی بند  کر دیا گیا ۔مشتعل وکلاء کا مطالبہ تھا  کہ جب تک ہمارے چیمبر دوبارہ نہیں بنائے جاتے کوئی بات نہیں کرینگے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کی سروس روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔
  کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ اور رینجرز کے اہلکاروں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کسی بھی نا خوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تعینات کر دیا گیا۔پولیس اور رینجرز کے  افسر اور اہلکاروں نے وکلا کو چیف جسٹس بلاک کے دروازے پر روک لیا۔ ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات ،سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر  چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمٰن  بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیمبر کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ۔اس موقع پر جسٹس محسن اختر کیانی نے قائد اعظم ہال میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیف جسٹس صاحب کی عدالت کے باہر سے یہاں آجائیں ،جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ وکلا کے چار سے پانچ چیمبرز کا مسئلہ تھا جو بیٹھ کر حل ہو سکتا تھا ،پہلے بھی کہا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ حل کریں ۔جسٹس محسن اختر کیانی نے  وکلاء سے سوال کیا کہ انہوں نے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے چیمبر کو  کیوں توڑا،
، آپ کو  چیف جسٹس کو بتانا تھا لیکن اگر ایسے توڑ پھوڑ کر کے بتائیں گے تو مسئلہ کیسے حل ہو گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ
چیف جسٹس آپ کی طاقت ہیں آپ نے انکے کمرے میں جا کر جو کیا اس کا کوئی جواز  تھا۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کو بلا کر پوچھوں گا کہ جو چیمبر غلط طور پر گرائے گئے وہ کس کے حکم پر گرائے گئے،آپ آ کر ہمیں  تو بتاتے  کہ آپ کے ساتھ ہوا کیا ہے،آپ نے اپنے ہی چیف جسٹس کا چیمبر توڑ دیا اور انہیں گالیاں دیں،
یہ باتیں اچھی نہیں ہیں اور انکے نتائج آئیں گے۔جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ لوگ جوڈیشری اور وکلاء کے ویسے ہی خلاف ہیں وہ اس کا فائدہ اٹھائیں گے،اپنے صدر اور سیکرٹری سمیت کسی کی توہین نہ کریں، سب وکلاء نے بدتمیزی کی لیکن چیف جسٹس نے کوئی ایک بات نہیں کی۔
: وکلاء کا چیمبرز گرانے پر احتجاج، اسلام آباد ہائی کورٹ میں صبح دس بجے سے کام بند

چیف جسٹس بلاک کے باہر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موجود

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بلاک کے کامن روم میں بار کے نمائندوں سے مذاکرات ایک گھنٹے سے جاری

چیف جسٹس سمیت ہائی کورٹ ججز، ڈی سی اسلام آباد، رینجرز کمانڈر، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد مذاکرات میں شامل

وکلا کی جانب سے چھ مطالبات سامنے آ گئے، ذرائع

پولیس کی جانب سے گرفتار وکلاء کو فی الفور رہا کیا جائے، وکلاء کا مطالبہ

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گرائے گئے چیمبرز کو دوبارہ تعمیر کیا جائے، وکلاء

گرائے گئے چیمبرز کی تعمیر کے ساتھ فی چیمبر پانچ لاکھ ہرجانہ بھی ادا کریں، وکلاء

ڈی سی اسلام آباد، متعلقہ ایس پی اور سیشن جج کو اسلام آباد سے ٹرانسفر کیا جائے، وکلاء

ڈسٹرکٹ کورٹس کی ایف ایٹ سے منتقلی تک ملحقہ فٹبال گراؤنڈ کی باقی اراضی پر بھی ینگ لائرز کے لیے چیمبر بنائیں، وکلاء

ڈسٹرکٹ کورٹس جہاں منتقل ہو وہاں وکلاء چیمبرز کے لیے دس ایکڑ اراضی دی جائے، وکلا
چیف جسٹس آف پاکستان نے وکلا کو بلا لیا ہے، چودھری حسیب صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار
نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے انتظامیہ نے بھی جانا ہے اور ہم نے بھی جانا ہے،
تمام گرفتار وکلا کو بھی رہا کر دیا گیا ہے،صدر ڈسٹرکٹ بار نے کہا کہ ہم چیف جسٹس پاکستان کے پاس اپنا مقدمہ لے کر جا رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ وکلا کی تجویز  وکلا ملاقات کے لیے نہ جائیں، چیف جسٹس سوسوپاکستان بھی بند کریں گے، وکیل رہ نما
جب تک چیمبرز تعمیر نہیں ہوں گے تب تک ڈسٹرکٹ اور ہائی کورٹس نہیں کھلنے دیں گے، وکیل رہ نما وکیلوں نےاسلام آبادہائیکورٹ پرہلہ بول دیا
وکیلوں نےرجسٹراربرانچ کےشیشےتوڑدیے
فوٹیج بنانےپراےآروائی نیوزکوزدوکوب کیا
وکلارجسٹراربرانچ کادروازہ توڑاندرچلےگئے
وکلاکی چیف جسٹس کےکمرےکوتوڑنےکی کوشش
گزشتہ ایک گھنٹےسےچیف جسٹس مشتعل وکلاکےمحاصرےمیں زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کوطبی امداددی جارہی ہے
اےآروائی نیوزکےرپورٹرجہانگیراسلم کوبھی طبی امداددی جارہی ہے
فوٹیج بنانےپروکلانےاےآروائی نیوزکےرپورٹرکوزدوکوب کیاتھا
غیرقانونی چیمبرکےحوالےسےوکلاکوکئی بارنوٹسزدیےجاچکےہیں،ضلعی انتظامیہ
ہائیکورٹ اوراسلام آبادبارکونسل کےاحکامات کی روشنی میں غیرقانونی چیمبرتوڑےگئے،ضلعی انتظامیہ ڈیڑھ گھنٹے میں رجسٹرار اور چیف جسٹس برانچ میں توڑ پھوڑ جاری
چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کو بھی یرغمال بنا دیا گیا
ہائی کورٹ کے علاوہ سیشن  کورٹ میں بھی وکلاء کی جانب سے توڑ پھوڑ
چیف جسٹس کو چیمبر سے باہر نکال لیا گیا ہے
چیف جسٹس کو محاصرہ کر کے وکلاء نے تلخ نعرے بازی کی
گو چیف گو چیف کے نعرے ضلعی انتظامیہ اور چیف جسٹس مردہ آباد کے نعرے
عدالتی اسٹاف سمیت کئی وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا
اسلام آباد ضلع کچہری میں تعمیر اپنے غیر قانونی چیمبرز گرانے پر وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا بول دیا۔انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی اور ان کیخلاف نعرے لگائے جس کے نتیجے میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ اپنے چیمبر میں محصور ہوگئے اور وکلا نے چیف جسٹس سے بدتمیزی بھی کی۔ججززاور، اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے  کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔

اسلام آباد انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں وکلا کے چیمبرز کو غیر قانونی قرار دے کر رات گئے گرا دیا۔ سی ڈی اے انفورسمنٹ اور پولیس نے کچہری میں بنے وکلاء کے غیر قانونی چیمبرز مسمار کردیے۔بڑی تعداد میں وکلا اپنے چیمبرز گرانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوگئے۔ مشتعل وکلا چیف جسٹس بلاک میں بھی داخل ہوگئے، انہوں نے کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے جبکہ چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ، اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے  کے خلاف شدید نعرے بازی کی جس کے نتیجے میں جسٹس اطہر من اللہ اپنے چیمبر میں محصور ہوگئے۔ وکلا نے صحافیوں سے بھی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا اور ویڈیو بنانے پر لڑ پڑے۔

وکلا کی بڑی تعداد نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے چیمبر اور سیشن جج طاہر محمود کے دفتر میں داخل ہوکر اندر بھی توڑ پھوڑ کی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کو طلب کرلیا گیا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے وکلا کو بار روم میں بیٹھ کر بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ بیٹھ کر بات نہیں کریں گے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا، چیف جسٹس کے چیمبر سے ساتھیوں کو نکالیں تاکہ بات ہو سکے، اگر وکلا کو لگتا ہے ان سے زیادتی ہوئی تو بیٹھ کر ہمیں بتائیں۔وکلا نے مطالبہ کیا کہ جو بات ہوگی اوپن ہوگی اور سب کے سامنے ہوگی۔ شدید ناخوش گوار صورتحال کے نتیجے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی تمام عدالتوں نے کام بند کردیا، داخلی دروازے بند کردیے گئے اور وکلا و سائلین کو داخلے سے روک دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ کورٹ کےوکلاچیمبرتوڑنےپرآپےسےباہر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں