58

‏اٹک میں نون لیگی سابق وفاقی وزیر کا ملکیتی پٹرول پمپ بنک سیل کردیا گیا نواز شریف کا ساتھ دینے کی سزا دی جارہی ہے شیخ آفتاب احمد

اٹک )پی ڈی ایم کے رہنماوں کے خلاف ملک گیر انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ اٹک بھی پہنچ چکا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر کی “”خصوصی ہدایات”” پر ضلعی انتظامیہ اور اٹک پولیس نے محکمہ سول ڈیفنس۔ تحصیل کونسل اٹک اور دیگر اداروں نے قائدِ مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے قریبی ساتھی سنئیر نائب صدر مسلم لیگ(ن) وسابق وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد کا جی ٹی روڈ فقیر آباد (لارنسپور )پر این ایچ اے سے 2035تک منظور شدہ پٹرول پمپ سیل کر دیا اس موقع پر تحصیل انتظامیہ اٹک۔ اے ایس پی صدر سرکل اٹک جنید اسحاق۔ دفتر ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن۔ سول ڈیفنس تحصیل کونسل اٹک اور دیگر محکموں کے افسران کے ساتھ پولیس کی بھاری نفری موجود تھی ۔ اس انتقامی کاروائی پرشیخ آفتاب احمد آج چھ فروری شام 5بجے اٹک میں اپنی رہائش گاہ پرہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرینگے۔۔
اٹک ( مرکزی سینئر نائب صدر فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پاکستان صوفی فیصل بٹ سے ) پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما ، سینئر نائب صدر مسلم لیگ ( ن ) پنجاب و سابق وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ ان کے 52 سال سے منظور شدہ پیٹرول پمپ ، ورکشاپ اور اس کے ساتھ ملحقہ بینک کو کسی قسم کا نوٹس دیئے بغیر سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے قائد مسلم لیگ ( ن ) محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا ساتھ نہ چھوڑنے پر سیل کرنا بدترین سیاسی انتقام ہے اور ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم عمران خان اپنے اقتدار کی ناءو ڈوبتی دیکھ کر پی ڈی ایم کے مرکزی قائدین کے خلاف بھرپور ریاستی وسائل کو انتقام کی آگ میں اندھا ہوتے ہوئے استعمال کر رہے ہیں جس کیلئے ضلعی انتظامیہ ، پولیس اور سرکاری اداروں کو ان کے دائرہ کار سے نکال کر اپنے ذاتی ملازم کی حیثیت سے استعمال کرنے کے نتاءج پاکستان کی سلامتی ، بقاء ، ترقی و خوشحالی کیلئے مضر ثابت ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی سیکرٹریٹ مسلم لیگ ( ن ) میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر رکن پنجاب اسمبلی مسلم لیگ ( ن ) جہانگیر خانزادہ ، سابق امیدوار پنجاب اسمبلی شیخ سلمان سرور ، ضلعی صدر محمد سلیم شہزاد ، سابق چیئرمین بلدیہ اٹک ناصر محمود شیخ ، رہنما مسلم لیگ ( ن ) ڈاکٹر اشرف بٹ ، شیخ اجمل محمود ، شیخ حامد محمود ، طلال اشرف بٹ ، ڈاکٹر میاں راشد مشتاق ، تحصیل صدر اٹک میاں شاہنواز شانی ، سٹی صدر اٹک شیخ محمود الہٰی ، سٹی صدر حضرو حاجی احسان خان ، سابق اقلیتی کونسلر طارق ولیم ، شیخ عواد صفدر ، وقار احمد ، عماد فیض ، چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضا خان ، بانی چیئرمین الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن لالہ محمد صدیق ، جنرل سیکرٹری لیاقت عمر کے علاوہ اٹک کامرہ اور حضرو کے صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ گزشتہ 2 ماہ سے اٹک میں عجیب سی فضاء پیدا کی جا رہی ہے 2 ماہ قبل مجھے کہا گیا کہ آپ کا دوبئی میں پلازہ ہے وہ کہاں سے آیا اس پر میں نے کہا کہ میرا پاسپورٹ چیک کر لیں اور ثبوت لے آئیں میں آج تک دوبئی نہیں گیا اور یہ پلازہ آپ کے نام کر دوں گا اٹک میں محکمہ انسداد رشوت ستانی کی غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز کی سرگرمیاں بہت زوروں پر ہیں ہ میں کوئی چارج شیٹ نہیں دی گئی ہمارے پیٹرول پمپ پر ہر 15 روز بعد پی ایس او کی خصوصی ٹیم آ کر معیار اور کوالٹی چیک کر رہی ہے جو اس حکومت سے قبل نہیں ہوتا تھا یہ زمین این ایچ اے کی ہے اور انہیں سے تمام اجازت نامے حاصل کیے گئے تھے بینک بھی قانونی طور پر بنا ہوا تھا جسے سیل کر دیا گیا ان کا عرصہ دراز سے اپنی رہائش گاہ سے ملحقہ زمین کا تنازعہ موجود ہے حکومت کی سکیم آئی تھی کہ اس طرح کی زمینوں کے مالکان رقم ادا کر کے ان کے مالک بن سکتے ہیں ہمارا کیس ابھی چل رہا تھا کہ حکومت کی جانب سے کاروائی پر وہ ہائی کورٹ گئے اور 2018 ء میں حکم امتناعی جاری ہوا جس میں بورڈ آف ریوینو کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس پر جلد فیصلہ کرے اور ڈی سی کو کہا گیا کہ تنگ نہ کرے گزشتہ رات محکمہ مال کے لوگ ان کے پاس آئے جنہیں تمام کاغذات دے دیئے گئے اور بتایا گیا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اٹک تین میلہ روڈ پر ڈاکٹر اسلم مروت کے نزدیک ان کی 4 دکانیں ہیں جس میں نقشہ کی ترمیم کی گئی تو ساڑھے 4 لاکھ روپے فیس بھی ادا کر دی گئی اب بلدیہ کے ملازمین کو اس بابت تنگ کیا جا رہا ہے ایک انچ زمین کا بھی فرق نہیں میری ، میرے خاندان کی ، میرے بیوی بچوں کی اٹک سے باہر پاکستان یا بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں وہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور انہوں نے اس سال 26 لاکھ روپے جمع کرائے ہیں وہ 12 اکتوبر 1989 ء میں سابق آمر پرویز مشرف کے جمہوری حکومت پر شب خون مارنے کے بعد قائد محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کیلئے جب انہیں اٹک قلعہ اور اٹک جیل میں اسیر رکھا گیا تو ان کے میزبان کی حیثیت سے نیب کے افسران بریگیڈیئر شوکت اور بریگیڈیئر صدیقی نے ان کی انکوائری کی اور بعدازاں چیئرمین نیب لیفٹینٹ جنرل خالد مقبول نے انہیں بلایا اور کہا کہ آپ کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا لہٰذا آپ کو اس انکوائری سے بری کیا جاتا ہے ان کے خلاف اس انتقامی کاروائی میں کوئی مقامی سیاستدان ملوث نہیں ان کی 38 سالہ سیاسی زندگی میں 2 مارشل لاء اور کئی مخالف حکومتیں گزریں تاہم ایسے حالات کبھی نہیں ہوئے جو ریاست مدینہ کی دعویدار حکمرانوں کے دور حکومت میں ہو رہے ہیں دراصل موجودہ انتقام میرے ان انٹرویو جو سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں میں وائرل ہو رہے ہیں کو روکنے کے سبب کیا جا رہا ہے کہ جن میں میں مہنگائی ، بے روزگاری ، بدعنوانی ، کرپشن ، لاقانونیت ، معاشی ، اقتصادی ، تجارتی بدحالی ، بے روزگاری ، تعمیر و ترقی کے کاموں کا بند ہونا ، سرکاری افسران اور اہلکاروں کا بے مہار اور کرپشن کی بنیاد پر ان کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہ ہونے کے مسائل کو اجاگر کرنے پر کیا جا رہا ہے حکومت میرے خلاف انتقامی کاروائیاں کرنے کی بجائے جن مسائل کی وہ نشاندہی کرتے ہیں ان کے تدارک اور خاتمہ کی بجائے میرے خلاف انتقامی کاروائیوں کا لا متناعی سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے حکومت میری باتوں سے سبق حاصل کرے ان کے پیٹرول پمپ اور دیگر اثاثوں کے خلاف جس تضحیک امیز رویہ اختیار کر رہی ہے ایسا مارشل لاء میں بھی نہیں ہوا انہوں نے اعلان کیا کہ وہ محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے ساتھ تھے اور ان کے ساتھ رہیں گے چاہے ہ میں پابند سلاسل کر کے زندان میں ڈال دیا جائے 2001 ء میں بھی پولیس ان کی گرفتاری کیلئے وارنٹ لے کر آئی جس کی اطلاع انہیں ہوئی تو انہوں نے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر احمد یار خان کو رات ساڑھے 11 بجے صورتحال سے آگاہ کیا تو انہیں ڈی سی ہاءوس بلا لیا اور اس دور کے ڈی پی او عظیم لغاری کو بھی بلایا اور کہا کہ انہوں نے شیخ آفتاب احمد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کیے تو پولیس انہیں کیوں گرفتار کرنا چاہتی ہے تو ڈی پی او نے کہا کہ ’’ اوپر سے ‘‘ احکامات ہیں جس پر ڈی سی نے کہا کہ ایسے لوگ جمہوریت میں ایک مثال کی حیثیت رکھتے ہیں آپ ان جیسے لوگوں کو گرفتار کریں گے تو بڑی زیادتی ہو گی اس پر ان کی گرفتاری کے احکامات ختم کر دیئے گئے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف جو مرضی کاروائی کی جائے تاہم ان کے رشتہ داروں کو ریاستی جبر اور انتقام کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے انہوں نے ضلعی انتظامیہ اٹک کے غیر ذمہ دارانہ فراءض منصبی ادا کرنے پر کہا کہ وہ بطور انچارج شکایت سیل وزیر اعظم سیکرٹریٹ طویل عرصہ تک خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور انہیں افسران کی مجبوریوں کا علم ہے تاہم ’’ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ‘‘ افسران نے حکم دینے والوں کو خوش کرنے کیلئے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے یہ پیٹرول پمپ 1969 ء سے جسے52 سال ہو چکے ہیں قائم ہے اور تمام تر حکومتی قوائد و ضوابط کی منظوری کے بعد سے کام کر رہا ہے 52 سال بعد حکومت کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر اٹک کو یاد آ گیا کہ ان سے اس کی منظوری نہیں لی گئی جبکہ انہیں تمام کاغذات بھی دکھا دیئے گئے تاہم ’’ اوپر سے ‘‘ ہدایات کی روشنی میں ہر حال میں سیل کرنے والوں نے نہ صرف پیٹرول پمپ کو سیل کر دیا بلکہ ورکشاپ اور بینک جیسے قومی ادارے کو بھی سیل کرنے سے جب یہ خبر غیر ممالک میں جائے گی تو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے لاکھوں افراد ریاستی جبر اور غیر قانونی ہتھکنڈوں کی اطلاع پر اپنا ارادہ ملتوی کر دیں گے تاہم پاکستان کو تباہی کے کنارے پر پہنچانے والی تحریک انصاف کی حکومت نے جس انتقام کی سیاست کا آغاز کیا ہے اس کے نتاءج ملکی معیشت پر تباہ کن ثابت ہوں گے پیٹرول پمپ ، ورکشاپ اور بینک سے سینکڑوں افراد کا روزگار وابستہ تھا ’’ ایک کروڑ نوکریاں دینے والی تحریک انصاف کی حکومت ‘‘ دراصل نوکریاں چھینے کے در پے ہے 5 سال پورے ہونے پر عمران خان کی حکومت لوگوں سے ایک کروڑ لوگوں سے روزگار چھین چکی ہو گی ۔
ڈپٹی ڈائر یکٹر اطلاعات و تعلقات عامہ،حکومت پنجاب،اٹک کے ھینڈ آئوٹ کے نطابق۔ ضلعی انتظامیہ کی ہدایات کی روشنی میں فقیر آباد میں پانچ کنال اور دس مرلہ بالتر تیب پر قائم غیر قانونی پیٹرول پمپ اور نجی بنک سیل کردیا گیا۔اس موقع میں ضلعی، تحصیل انتظامیہ اور پولیس بھی موجود تھی۔پیٹرول پمپ اور نجی بنک سابقہ ایم این اے کے قبضے میں تھے، جس پرآج کاروائی کرکے انتظامیہ نے سیل کردیا۔ڈی سی اٹک علی عنان قمر کے مطابق قبل ازیں 44غیر قانونی پیٹرول پمپس کو سیل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیہ کے خلاف آپریشن مکمل نتائج کے حصول تک جاری رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں