49

بائیڈن انتظامیہ ہندوستان کی ہندوتوا حکومت پر ذرائع ابلاغ کی بحالی اور زیرِ حراست سیاسی رہنماؤں کی رہائی کیلئے دباؤ ڈالے شہریارآفریدی

بائیڈن انتظامیہ ہندوستان کی ہندوتوا حکومت پر ذرائع ابلاغ کی بحالی اور زیرِ حراست سیاسی رہنماؤں کی رہائی کیلئے دباؤ ڈالے۔ چئیرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کی میڈیا سے گفتگو
جب
اسلام آباد – چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عالمی برادری، امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندوستان کے ہندوتوا حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیر کے زیر حراست سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے۔ 
وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کوٹلی کے لئے روانگی سے قبل یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ سید علی گیلانی ، مسرت عالم بھٹ ، میر واعظ عمر فاروق ، سید شبیر شاہ ، یاسین ملک ، اشرف صحرائی ، آسیہ اندرابی ، ناہیدہ  نسرین ، فہمیدہ صوفی اور دیگر رہنما جو ہندوستان سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اُن تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35-A کا خاتمہ کرکے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور چارٹر کی خلاف ورزی کی جس پر مودی کی ہندتوا حکومت کو قانون کے تحت سزا دینا چاہیے۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھارت کی قابض حکومت نے جنوبی کشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی ناکہ بندی نافذ کی. انہوں نے اس ناکہ بندی کو فوری طور پر اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔
شہریار آفریدی نے کہا کہ ہندوتوا حکومت کی جانب سے لگائے گئے اس بلیک آؤٹ کا مقصد معلومات کو روکنا اور کشمیری عوام کو باقی دنیا سے مواصلاتی طور پر تنہا رکھنا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی غیر قانونی قابض حکومت نے کشمیریوں کو اُن کے اپنے ہی گھروں میں قید رکھ کر کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے۔
انہوں نے نے بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ہندوتوا منصوبے کے تحت جاری کشمیریوں کی نسل کشی اور اُن کے مکانات اور املاک کو تباہ کرنے میں بھارتی فورسز کی جانب سے آر ڈی ایکس کے استعمال پر فوری طور پر پابندی لگا ئے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ انٹرنیٹ کرفیو اور مواصلاتی بلیک آؤٹ کو فوری طور پر ختم کروائے اور سیاسی رہنماؤں کی رہائی اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی غیر قانونی و یکطرفہ کارروائیوں کا خاتمہ یقینی بنائے۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو انسانیت کے خلاف اپنے جرائم کا جوابدہ بنانے کے لئے مزید فعال پارلیمنٹیرینز کے کردار پر زور دیتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا فوری حل اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار آفریدی نے کہا کہ بین الاقوامی پارلیمنٹیرینز کشمیر میں ہندوستان کی جارحیت کو روکنے پر متحرک نظر آ رہے ہیں اور یہ کہ بھارت کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا جوابدہ بنانے کے لئے عالمی ضمیر کو متحرک کرنے کے لئے مل کر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کے چیئرپرسن سمیت امریکہ ، کینیڈا اور یورپ سمیت متعدد ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور قانون سازوں نے بھی مقبوضہ کشمیر پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر تنازعہ کے پرامن حل کے لئے وزیر اعظم پاکستان کے وژن کے تحت پارلیمانی اور سفارتی رابطوں ، میڈیا ، تھنک ٹینک ، تعلیمی شعبے ، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر تیار کردہ منصوبے کے تحت اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں مشترکہ طور پر فیصلے کے لئے پرعزم ہیں۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی وکالت کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے زیراہتمام سکیورٹی کونسل کی قراردادوں میں لکھا ہوا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کا حق خودارادیت نہیں چھین سکتا۔

انہوں نے کہا کہ مودی کے دور حکومت میں حال ہی میں کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو ایک نیا محرک ملا ہے۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں غیر ملکی مداخلت کے بیانیہ پر عالمی اعتماد کھو ديا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے اقدامات فاشسٹ آر ایس ایس کے نسل پرست نظریات کے ذریعہ آگے بڑھ رہے ہیں۔

بھارتی قابض افواج نام نہاد کورڈن و سرچ آپریشنز کی مد میں ہونے والے مقابلوں میں بے گناہ کشمیریوں کو شہید کررہی ہیں اور خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں بے گناہ کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل ، بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 5 اگست سے بھارتی حکومت متنازعہ علاقے میں فوجی قبضے ، زمین ضبط کرنے ، غیر کشمیریوں کی آمد اور اجنبی بستیوں کے قیام کے منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔  انہوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ بیرونی آباد کاروں کی طرف سے جاری نوآبادیاتی پلان کے تحت کشمیر اپنی سیاسی اور ثقافتی شناخت ، اپنی آبادیاتی اکثریت اور اپنے املاک سے محروم ہوجائیں گے۔  آفریدی نے کہا کہ اس نوآبادیاتی نسلی کشی کا مقصد اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تحت ہونے والی رائے شُماری کے نتائج کو متاثر کرنا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور پاکستان اور ہندوستان کے مابین دوطرفہ معاہدوں اور بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے اور خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے جس میں واضح لکھا گیا ہے کہ “قابض فورس مقبوضہ علاقے میں منتقلی و ملک بدری يا اپنے شہری آباد نہیں کرے گی۔”
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مواصلاتی بندش انسانی حقوق کے ڈکلیریشن کے آرٹیکل 19 کی واضح خلاف ورزی ہے جس میں واضح ہے کہ “ہر ایک کو رائے رکھنے اور اس کے اظہار کی آزادی کا حق ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں