99

جو صحافی سمجھتے ہیں پاکستان میں میڈیا آزاد ہے وہ ہاتھ کھڑا کریں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ‎‏ایک صحافی بھی ہاتھ نا اٹھا سکا۔

‎جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے غیر معمولی سوال
‎‏جو صحافی سمجھتے ہیں پاکستان میں میڈیا آزاد ہے وہ ہاتھ کھڑا کریں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
‎‏ایک صحافی بھی ہاتھ نا اٹھا سکا۔
‎‏جو سمجھتا ہے میڈیا آزاد نہیں ہے وہ ہاتھ کھڑا کریں۔
‎‏تمام صحافیوں نے ہاتھ اٹھا دیے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز  عیسیٰ  نے ریمارکس دیے کہ ملک کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے۔
بلدیاتی انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران  اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ مردم شماری 2017 میں ہوئی لیکن ابھی تک حتمی نوٹی فیکشن جاری نہ ہو سکا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا2017 کے بعد سب سو گئے تھے؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ مردم شماری پر سندھ اور دیگر کے اعتراضات ہیں،  مردم شماری پر اعتراضات پر وفاقی حکومت نے کمیٹی بنا دی ہے، سندھ میں 5 فیصد بلاکس پر دوبارہ مردم شماری کرائی جائے گی، مردم شماری کے نتائج پر ایم کیو ایم کے بھی اعتراضات تھے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کا نام نہ لیں، یہ آئینی معاملہ ہے، کیا سندھ کا اعتراض آبادی کم ہونے کا تھا؟ 2017 سے  2021  تک مردم شماری پر فیصلہ نا ہو سکا، کیا پاکستان کو اس طرح سے چلایا جا رہا ہے؟ یہ تو روزانہ کے معاملات ہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ آرڈیننس تو 2 سے6 روز میں آجاتا ہے مردم شماری پر اب تک فیصلہ نہ ہو سکا، یہ ترجیحات کا ایشو نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا چیئرمین کون ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا چیئرمین وزیراعظم ہوتا ہے۔ 
جسٹس فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ کیا وزیراعظم نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم نے اجلاس بلایا تھا لیکن کسی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ 
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضہ ہیں، بلدیاتی انتخابات کی بات ہو تو صوبے اپنے مسائل گنوانا شروع کر دیتے ہیں، پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے تحلیل کرکے جمہوریت کا قتل کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی بلدیاتی ادارے تحلیل کرنے کی کوئی وجہ تو ہو گی، مارشل لاء دور میں مقامی حکومتیں تحلیل ہوتی تھیں لیکن جمہوریت میں ایسانہیں سنا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا پنجاب لوکل گورنمنٹ ختم کرنے کا موڈ بن گیا تھا؟ جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون بنا دیا گیا ہے۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ملک میں میڈیا آزاد نہیں ہے، ملک میں میڈیا کو کیسے کنٹرول کیا جا رہا ہے، ملک میں کیسے اصل صحافیوں کو باہر پھینکا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو منظم طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے کیونکہ جب میڈیا تباہ ہوتا ہے تو ملک تباہ ہوتا ہے، صبح لگائے گئے پودےکو کیا شام کو اکھاڑ کر دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جڑ کتنی مضبوط ہوئی؟
جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ ججز کو ایسی گفتگو سے احتراز کرنا چاہیے لیکن کیا کریں ملک میں آئیڈیل صورتحال نہیں ہے، کب تک خاموش رہیں گے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر مخالف غدار اور حکومتی حمایت کرنے والا محب وطن بتایا جا رہا ہے، بلدیاتی حکومت کو ختم کر کے پنجاب حکومت نے آئین کی واضح خلاف ورزی کی، ایسے تو اپنی مرضی کی حکومت آنے تک آپ حکومتوں کو ختم کرتے رہیں گے، جمہوریت کھوئی تو آدھا ملک بھی گیا، میڈیا والے پٹ رہے ہیں، ڈیفنس میں رہنے والوں کے ایشو نہیں، کچی آبادی والوں کے مسائل ہوتے ہیں۔
جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ خود کو نہ سدھارا تو وقت نکل جائے گا، لوگ بددعائیں دے رہے ہیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ کیا پنجاب کا حال مشرقی پاکستان والا کرنا ہے، پنجاب کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے اخراجات سے ڈراتا ہے، کہتا ہے الیکشن پر 18 ارب خرچہ آئے گا، میں نے حساب لگایا تو یہ خرچ 36 اراکان اسمبلی کو دیے جانے والے ترقیاتی فنڈز کے برابر ہے، یہ عوام کا پیسہ ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مردم شماری کا ایشو ہے تو دوبارہ کروا لیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئی مردم شماری پر فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل میں ہو گا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا پاکستان میں میڈیا آزاد ہے؟ اٹارنی جنرل صاحب ہاں یا ناں میں جواب دیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس صاحب، ہاں یا ناں کے علاوہ کوئی آپشن دیں جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کمرہ عدالت میں موجود میڈیا والوں سے ریفرنڈم کروالیں، میڈیا والے ہاتھ کھڑا کریں کہ کیا میڈیا آزاد ہے؟
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سوال پر کسی صحافی ہاتھ کھڑا نہیں کیا، جس پر جسٹس قاضی فائز نے سوال کیا کہ وہ صحافی ہاتھ کھڑا کریں جو سمجھتے ہیں کہ ملک میں آزادی صحافت موجود ہے، اس پر بھی کسی صحافی نے ہاتھ کھڑا نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پابندی لگانے والے مجرم ہیں، ان کو جیل میں ہونا چاہیے، ہمارا آئین میڈیا کی آزادی کا ضامن ہے، میڈیا کو کنٹرول کرکے اپنی تعریف سن کر خوش ہوتے رہتے ہیں، اپنی تعریفیں سن کر خوش ہونے والوں کو ماہرنفسیات کے پاس جانا چاہیے۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان ے کہا کہ ملک حلات جنگ میں ہے، جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ملک میں واقعی ہی ایک جنگ جاری ہے لیکن عوام کے خلاف۔
ممتاز صحافی احمد ولید کے مطابق “ عدالت میں موجودصحافیوں سے جب پوچھاگیا کہ ہاتھ کھڑا کر کے بتائیں کیا میڈیا آزاد ہے تو کسی صحافی نے ہاتھ کھڑا نہیں کیا ۔ میڈیا کا گلہ کیوں گھونٹا جا رہا ہے۔ پہلا بار ہوا ہے کہ میڈیا کی آزادی پر ریفرنڈم کے نتائج 100 فی صد آئے ہیں۔ جسٹس مقبول باقر “
ممتاز اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریر کیا
“ میڈیاپرپابندی لگانےوالے مجرم ہیں، انہں جیل میں ہونا چاہیے، آئین میڈیاآزادی کا ضامن ہے، میڈیاکنٹرول کرکےاپنی تعریف سن کرخوش ہونےوالوں کوماہرنفسیات کے پاس جاناچاہیے، جسٹس قاضی فائز عیسی ملک حالت جنگ میں ہے، اٹارنی جنرل ملک میں واقعی ایک جنگ جاری ہے لیکن عوام کے خلاف،جسٹس مقبول باقر”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں