136

نامور صحافی اور ممتاز قلمکار جناب اکمل علیمی گزشتہ رات رحلت فرماگئے وہ طویل عرصہ سے امریکہ میں مقیم تھے اور چند سالوں سے علیل تھے

نامور صحافی اور ممتاز قلمکار جناب اکمل علیمی
گزشتہ رات رحلت فرماگئے

وہ طویل عرصہ سے امریکہ میں مقیم تھے اور چند سالوں سے علیل تھے صحافی کسلم نگار تنویر زیدی نے لکھا اہ. سید اکمل علیمی لاہور سے امریکہ منتقل ہوۓ تو دوست احباب ساتھی اداس ہو گۓ لیکن وہ پاکستان اتے رہے ان کی تاریخی حیثیت کی حامل تحریروں کے ذریعہ ان سے ملاقات ہوتی رہی . . اب وہ گۓ’ ایسے دیس نہ چٹھی نہ کویٔ سندیس. .’ اللّه پاک مرحوم کی مغفرت فرماے ان کے درجات بلند کرے آمین . . . اس موقع پر مرحوم کے خبروں میں استمعال کۓ گۓ وہ تاریخی جملے یاد ارہے ہیں جو نۓ رپورٹرز کے لۓخبر تحریر کرتے ہوۓ رہبر ۔تحریر کا کردار ادا کرتے تھے. جرنلزم کی راہ کا نو اموز انہیں استمعال کر کے فخر محسوس کرتا تھا. . . . اکمل علیمی امروز اخبار میں میرے پہلے چیف رپورٹر تھے . . 5ستمبر 1970میرے لۓ یاد گار دن ہے جب میں امروز کے نیوز روم میں ڈیسک پر خبریں بنا رہا تھا شام کا وقت تھا. اکمل علیمی نیوز روم میں اۓ وہ ان دنوں عبدللہ ملک کی برخاستگی کے بعد چیف رپورٹر تھے انہوں نے میرے بارے میں پوچھا انہین پتہ چلا کے میں مرحوم زیدی صاحب کا بیٹا ہوں میرے پاس اۓ انتہایٔ شفقت سے ملے . . اور کہا کے. . رپورٹنگ کرو گے ؟ میں نے حامی بھری وہ مجھے رپورٹنگ روم لے گۓ . . اور میری ڈیوٹی نیشنل سنٹر میں منعقد یوم دفاع سے متعلق ایک فنکشن پر لگایٔ 50 سال پہلے یہ میری رپورٹنگ کی زندگی کا اغاز تھا نے یادیں رہ گئیں بندہ الله کے حضور حاضر
2005 میں اخری بار چکر لگایا پھر نہ ا سکتے عمرہ کرنے کے بعد وہاں دل کی تکلیف ہوئی تو پیس میکر لگ گیا امریکہ جا کر فون پر بتایا اور کہا اب نہ ا سکوں گا
ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ کے لۓ احتجاج ہوا . . اس وقت کے وزیر اطلات صاحبزادہ شیر علی نے جو مشہور دایںٔ بازو کے پیروکار بلکے جماعت اسلامی کے نظریات کے حامی تھے . نے اس موقع سے فایدٔہ اٹھایا. . . . احتجاج کا بہانہ کر کے امروز کے ان کارکنوں کو برخاست کر دیا جو ترقی پسند کہلاتے تھے . یہ تمام لوگ پیپلز پارٹی کی حکومت انے پر بحال ہوۓ. . جب عبدلحفیظ پیرزادہ بھٹو کابینہ میں پہلے وزیر اطلات بنے. . . . ائ اے رحمان عدالتی حکم کی وجہ سے برخاست نہیں ہوۓ. . . ایڈیٹر امروز ظہیر بابر سے جب کہا گیا کہ وہ عبدالہ ملک. . حمید اختر. عباس اطہر. کی برخاستگی کے احکامات جاری کریں تو انہون نے انکار کردیا. اور استعفی دیدیا تھا
سئنئر صحافی چودھری خادم حسین لکھتے ہیں یادیں رہ گئیں بندہ الله کے حضور حاضر
2005 میں اخری بار چکر لگایا پھر نہ ا سکے عمرہ کرنے کے بعد وہاں دل کی تکلیف ہوئی تو پیس میکر لگ گیا امریکہ جا کر فون پر بتایا اور کہا اب نہ ا سکوں گا۔واشنگٹن میں مقیم سینئر صحافی انور اقبال کہتے ہیں “وقت آتا ہے۔ مر جاتے ہیں۔جگہ خالی بھی نہیں ہوتی کہ پر ہو جاتی ہے۔ حشرات الارض ہیں ہم لوگ۔ مگر ان جانے والوں میں کہیں، کبھی، کوئی انسان بھی ہوتا ہے۔ اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

آج ایسے ہی ایک انسان۔ ایک بہت ہی اچھے انسان، اکمل علیمی خالق حقیقی سے جا ملے۔ علیمی صاحب ایک معزز صحافی اور صاحب طرز ادیب بھی تھے۔ اور بھی ہیں۔ مگر ایسے نفیس انسان کم۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا!#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں