127

کراچی میں نامعلوم افراد نے کار پرفائرنگ کرکے لڑکی سمیت 4 معروف ٹک ٹاکرکو قتل کردیا۔

کراچی کے علاقے انکل سریا اسپتال کے سامنے نامعلوم افراد نے ہنڈا سٹی کار (نمبر AEN-548) پرفائرنگ کرکے لڑکی سمیت 4 معروف ٹک ٹاکرکو قتل کردیا۔
مقتولہ خاتون کی شناخت معروف ٹک ٹاکر32 سالہ مسکان شیخ کے نام سے کی گئی۔ مقتولہ لانڈھی کی رہائشی تھی۔ زخمیوں کی شناخت ان کے پاس سے ملنے والے شناختی کارڈ سے 29 سالہ صدام حسین ولد عبد اللہ جان غمگین ، 24 سالہ سید ریحان شاہ ولد سید نصیر حسین شاہ اور 25 سالہ عامر خان ولد آصف خان کے نام سے کی گئی۔ زخمی ہونے والے دیگر3 افراد صدام حسین، عامرخان اورسید ریحان شاہ بھی وقفے وقفے سے سول اسپتال میں دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگئے۔ مقتول صدام حسین مکان نمبر KE-9516 بلاک ڈی محلہ گلشن غازی بلدیہ ٹاؤن کا رہائشی اور مشہور ٹک ٹاکرز تھا۔
مقتول عامرخان مکان نمبر 45-1 محلہ بوری بنگلہ پٹیل پاڑہ کا رہائشی تھا جبکہ مقتول سید ریحان شاہ محلہ توحید نگر گلشن غازی کالونی بلدیہ ٹاؤن کا رہائشی تھا ۔ مقتول صدام اور ریحان پولیس قومی رضا کار تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق مزکورہ چاروں افراد کار میں جا رہے تھے کہ تعاقب میں آنے والے رکشے میں سوار افراد نے انکل سریا اسپتال کے قریب ہنڈا سٹی کارپرعقب سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خاتون کو گولی لگی اور کار کے اسپتال کے گیٹ کے سامنے رکتے ہی مسلحہ ملزمان نے رکشا سے اترکرکارکو گھیرے میں لے کر اس میں سوار افراد کو نیچے اتار کر گولیاں مار دیں اوررکشا سمیت فرارہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے 9 خول حاصل کر کے فارنزک لیبارٹری بھیج دیے، پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
۔

گارڈن نبی بخش تھانے کی حدود میں کار پر فائرنگ کا معاملہ۔فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونیوالا عامر دوران علاج دم توڑ گیا۔ریسکیو خے مطابق ۔واقع میں جاں۔بحق افراد کی۔تعداد تین ہوگئی۔ہوگئی۔ ۔فائرنگ کے واقع میں خاتون مسکان۔ صدام اور عامر جاں بحق۔
*کراچی: گارڈن انکل سریا اسپتال کے قریب فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ٹک ٹاکرز مسکان شیخ اور عامر خان نے آخری ٹک ٹاک فائرنگ سے کچھ دیر قبل بنائی تھی*
فائرنگ کے واقعے میں 4 افراد جاں بحق ہوئے، ابتدائی معلومات سامنے آگئیں مقتول عامر اور مقتولہ مسکان دوست تھے، تفتیشی حکام کے مطابق رات مقتولہ نے عامر کو کال کی، عامر نے اپنےدوست سے گاڑی لی اور مسکان کو ساتھ لیا، عامر نے دیگر دو دوستوں کو بھی ہمراہ لیا،
چاروں دوست رات بھر گھومتے پھرتے رہے، ساتھ ڈنربھی کیامقتولین نے تقریبا چار گھنٹے کا وقت ساتھ گزارا،
مقتولہ کاتعلق ہزارہ برادری سے تھا واقعے کو ذاتی دشمنی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے ممکنہ طور پر لڑکی کے کسی واقف کار نے گاڑی پر فائرنگ کی، فائرنگ کرنے والے شخص کا پہلا ٹارگٹ لڑکی ہی تھی، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے مقتولین کا روٹ معلوم کی جارہا ہےمقتولین کے موبائل فونز کا سی ڈی آر نکلوایا جارہا ہے، *کراچی: گارڈن انکل سریا اسپتال کے قریب فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ٹک ٹاکرز مسکان شیخ اور عامر خان نے آخری ٹک ٹاک فائرنگ سے کچھ دیر قبل بنائی تھی ہسپتال ذرائع کے مطابق مقتوک عامر، سدام اور ریحان کی لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئی، مسکان کے پوسٹ مارٹم کے لیے لاش جناح اسپتال منتقل، مسکان کے اہل خانہ سے ابتک کوئی پولیس سے رابطہ میں نہیں آسکا،
تھانہ نبی بخش کی حدود میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت چار افراد کےقتل کے معاملے میں وضاحت نیوز کی انوسٹی گیشن ٹیم کے مطابق خاتون جسکا نام مسکان معلوم ہوا ہے ایک ٹک ٹاکر تھی اور لانڈھی کی رہائشی تھی اسکے علاوہ طلاق یافتہ اور ایک بیٹے کی ماں تھی اور بلدیہ ٹاؤن کے رہائشی عامر عرف بلا سے پیار کرتی تھی گذشتہ رات بھی رکشہ میں سوار ہو کر بلدیہ ٹاؤن PK ھوٹل نزد روبی موڑ آئی اور عامر عرف بلا کو کال کر کے بلایا عامرعرف بلا نے اپنے دوست شاہد نامی شخص سے کار لی اور مسکان کو لیکر صدام آفریدی کے گھر پہنچا جہاں دونوں نے ٹک ٹاک ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی مسکان کے ہمراہ صدام آفریدی و ریحان شاہ عرف انعام شاہ اور عامر ڈیفینس کی طرف روانہ گے ذرائع کے مطابق انہوں نے کھانا کھا کر مسکان کو لانڈھی اسکے گھر چھوڑنا تھا مگر اچانک رات 3 بجکر 20 سے 30 منٹ کے درمیان انکل سریا اسپتال کے سامنے نامعلوم افراد نے انکی گاڑی روک کر فائرنگ کی جس سے مسکان اور عامر عرف بلا کو گولیاں لگیں جس سے وہ زخمی ہوگئے

اسی اثناء میں صدام آفریدی اور انعام شاہ کار سے اتر کر بھاگے تو نامعلوم افراد نے پہلے صدام آفریدی کو گولیاں ماری اور بعد میں انعام شاہ کو انکل سریا اسپتال کے گیٹ پر گولیاں ماریں

نامعلوم ملزمان نے دوبارہ کار میں موجود مسکان اور عامرعرف بلا کو دم گولیاں ماریں اور فرار ہوگئے

ذرائع نے مزید بتایا کہ مسکان سے جنون کی حد تک پیار کرنے والا ایک عاشق جس کا نام رحمان معلوم ہوا ہے لانڈھی کا رہائشی ہے نے اس سے قبل بھی صدام آفریدی اور عامر عرف بلا کے سامنے مسکان کے کان کے قریب فائر مارا تھا اور کہا تھا کہ مسکان کے لیے مجھے سو آدمیوں سے بھی ٹکر لینی پڑے تو میں لونگا جس کا بعد میں شاہ جی نامی شخص ( مبینہ منشیات فروش ) جو کہ لانڈھی میں رہتا ھے کے ڈیرے پر صائم تنولی مبینہ( پیپلزپارٹی کارکن) کے سامنے راضی نامہ بھی ہوا تھا

صدام آفریدی و انعام شاہ کی کچھ دن پہلے گلشن غازی میں ھوائی فائرنگ کی ویڈیو بھی وائرل ھوئی تھی جس پر اعلی افسران کے حکم پر تھانہ اتحاد ٹاؤن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا انعام شاہ اور صدام آفریدی ضمانت پر تھے

صدام آفریدی پر بھی منشیات فروشی کے الزامات تھے صدام آفریدی کا بھائی بھی پچھلے دنوں اتحاد ٹاؤن تھانہ میں منشیات کے مقدمہ میں بھی بند ھوا تھا جو کہ فی الوقت جیل میں ھے

صدام آفریدی تحریک انصاف کا کارکن تھا مقتول چاروں دوست تھے صدام آفریدی کی ذاتی دشمنی بھی چل رہی تھی جسکی وجہ سے وہ ہر وقت اسلحہ سے لیس رہتا تھا جب کہ اسکا دوست انعام شاہ بھی ہمہ وقت اسلحہ سے لیس رہتا تھا

مگر حیرت انگیز طور پر جائے وقوعہ سے ان کا اسلحہ نہیں ملا شبہ یہ بھی ہے کہ سفاک قاتل انکا اسلحہ بھی چھین کر فرار ہو گئے

مسکان نامی خاتون کا عاشق رحمان جسکی مسکان کے ساتھ سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی موجود ہیں

اب انوسٹی گیشن پولیس نے یہ دیکھنا ہے کہ آیا قتل ذاتی دشمنی کی بنا پر کیے گئے یا مسکان نامی خاتون کے عشق میں مبتلا رحمان نامی لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے ملکر کیے ہیں جبکہ موقع واردات سے 9 خول پولیس نے برآمد کیے ھیں مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔

کراچی: گارڈن انکل سریا اسپتال کے قریب کارپرفائرنگ کے واقعے میں خاتون سمیت 4 افراد کے قتل کا معاملہ فائرنگ کا واقعہ پونے پانچ کے قریب پیش آیا ہے،ایس ایس پی سٹی سرفراز نواز نے بتایا :ابتدائی تفتیش کے دوران فائرنگ کا واقعہ ذاتی دشمنی کا لگتا ہے، ملزموں نے پہلے گاڑی پردو فائر کیئے، گاڑی پر فائرنگ سےخاتون موقع پر جاں بحق ہوگئی فائرنگ ہونے پر گاڑی سوار 3 افراد گاڑی سے اترکر بھگاے تو ملزموں نے ان پر فائرنگ کی، فائرنگ سے تینوں افراد شدید زخمی ہوئے اور دوران علاج دم توڑ گئے، فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی خاتون اور2 افراد ٹک ٹاکر تھے،: پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے9 خول ملے ہیں جنہیں تحویل میں لے لیا گی واردات میں ملوث ملزمان کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں ہوسکا،
واقعہ صبح سویرے پیش آنے کے باعث کوئی عینی شاہد بھی سامنے نہیں آسکا،: پولیس نے کچھ سی سی ٹی وی کیمروں کی نشاندہی کی ہے جن کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، سی سی ٹی وی کیمروں فوٹیج حاصل کرنے کے بعد ہی ملزمان کی تعداد واقعہ واقعے اصل وقوع کا معلوم ہوسکے گا،پولیس مقتولین کے دوستوں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں