57

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن کے تاثر سے متعلق رپورٹ پر تحریک انصاف کا یوٹرن پے یوٹرن

*ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن کے تاثر سے متعلق رپورٹ پر تحریک انصاف کا یوٹرن پے یوٹرن،*

*ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن کے تاثر سے متعلق رپورٹ پر تحریک انصاف کا یوٹرن پے یوٹرن، حکومتی وزراء کی جانب سے پے درپے متضاد بیانات کی گردان سنائی گئی، پہلے غلط دعوے کیے، پھر غلطی تسلیم کرنے سے انکار کیا لیکن بالآخر ماننا ہی پڑا۔*
*28 جنوری کو وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی 2019 کی رپورٹ کا ڈیٹا پیش کرتے ہوئے ماضی میں ن لیگ حکومت کو کرپشن کا ذمہ دار قرار دیا اور عوام کو گمراہ کیا۔*
*اپوزیشن کی کمزور انگریزی پر طنز کے وار کرتے ہوئے شہباز گل نے کہا کہ اپوزیشن کو اس وقت سمجھ آئے گی جب رپورٹ کا اردو میں ترجمہ کیا جائے گا*
*جس کے بعد وزیراعظم عمران خان، مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان وزیر اطلاعات شبلی شغلی اور دیگر حکومتی نمائندوں نے بھی ایسا ہی مؤقف دیا*
*عمران خان نے کہا کہ ہم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہیں یہ چوروں کی حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے جو پچھلے دور میں کی گئی*

*29 جنوری کو جب یہ بات واضح ہو گئی کہ اعداد و شمار تحریک انصاف کے دور حکومت کے ہی ہیں تو وزیراعظم نے یوٹرن لے لیا اور کہا کہ انہوں نے تو رپورٹ پڑھی ہی نہیں۔*
*ڈاکٹر شہباز گل نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے 2019 کی رپورٹ کے بارے میں ٹوئٹ کیا لیکن ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، یہی نہیں شہباز گل نے مخالفین کو ‘لفافے’ اور ‘لفافیوں’ کے نام سے پکارا۔*
*31 جنوری کو آخر کار حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک ٹی وی پروگرام میں تسلیم کر لیا کہ ڈاکٹر شہباز گل نے ردعمل دینے میں جلد بازی سے کام لیا،*
*فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے وزراء نے عوام کو گمراہ کیا کیا یہ 2020 کی رپورٹ ہے*

*ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی ہے وزیراعظم عمران خان اور وزرا نے کہا کہ رپورٹ انگلش میں اس لئے اس کا اردو ترجمہ آنے دیں رپورٹ پچھلی حکومتوں کے ادوار کے بارے میں ہے لیکن بی بی سی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سے تصدیق ی تو رپورٹ 2020 کی ہے*

*🏴‍☠️چوروں کا نیا پاکستان🇵🇰*

*آج عمران خان کی حکومت کو تیسرا سال جاری ہے اور کرپشن انڈیکس روز بروز بڑھتا جا رہا ہے مہنگائی بڑھ رہی ہے اور عوام زیادہ غریب ہو رہی ہے*

*عمران خان اور ان کی حکومت کے وزراء نے اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو پچھلی حکومت پر ڈال دیا کہا کہ رپورٹ پچھلے سالوں کی ہے بی بی سی کی تصدیق کرنے کے بعد پتہ چلا ہے*
*ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ بدعنوانی سے متعلق اس کی جاری کردہ رپورٹ کے لیے استعمال کیا گیا ڈیٹا پرانا نہیں 2020 کا ہے۔*

*بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی میں ایک سال میں 4 پوائنٹ کی تنزلی اور آڑھائی سال میں 7 پوائنٹ کی تنزلی ہوئی ہے۔*

*رپورٹ کے اجرا کے بعد وزیراعظم عمران خان پاکستانی حکومت کے بعض وزرا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ڈیٹا پرانا ہے اور پچھلی حکومتوں کے ادوار کا احاطہ کرتا ہے، تاہم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بی بی سی کے ساتھ ای میل کے تبادلے میں اس کی تردید کی ہے۔*

*ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) برائے سال 2020 میں پاکستان کو 180 ممالک میں 124 ویں درجے پر رکھا گیا*

*گذشتہ سال جاری ہونے والی 2019 کی رپورٹ میں 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان کی درجہ بندی 120 تھی۔*
*نیا پاکستان کے بننے کے وقت یہ انڈکس 117 پر تھا اور تبدیلی آنے اور نیا پاکستان بننے کے بعد یہ انڈیکس بڑھتا ہوا 120 اور اب 2020۔ کے اختتام پر 124 پرپہنچ گیا*
*یعنی کے خان صاحب جو سب سے زیادہ کرپشن کا راگ الاپتے ہیں کرپشن میں ہی ترقی کر رہے ہیں*
*چور چور کا شور مچانے والے سب سے بڑے ڈاکو ہیں*

*عمران خان نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ دیکھیں چوروں کے دور کی کرپشن پتہ چل گئی*
*وزراء کی طرف سے اسی طرح کے بیانات دیے کوئی شہباز کوئی شبلی شغلی کوئی بابر سب میدان میں اترے ہوئے تھے*
*لیکن*
*ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے رپورٹ کی تیاری میں جس دور کا ڈیٹا استعمال کیا ہے اس دور میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت برسرِ اقتدار تھی۔*

*رپورٹ کے ساتھ جاری کی گئی فائلز میں ادارے نے ایسی رپورٹ کی تیاری کے طریقہ کار کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ طریقہ کار کی فائل کے ابتدائیے میں لکھا ہے کہ: سی پی آئی 2020 کا حساب 12 مختلف اداروں کے 13 مختلف ڈیٹا سیٹس کی مدد سے لگایا گیا جو گذشتہ دو برسوں میں بدعنوانی کے تاثر کا احاطہ کرتے ہیں۔*
*استعمال کیا گیا باقی تمام ڈیٹا 2019 اور 2020 کا ہے۔*

*واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے گذشتہ سال ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جاری کی گئی رپورٹ پر بھی یہی دعویٰ کیا تھا کہ یہ رپورٹ گذشتہ ادوار میں ہونے والی بدعنوانی کو بیان کرتی ہے۔*

*عالمی ادارے کی 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کا سکور 33 اور درجہ بندی 117 تھی اور یہ سکور اس سے پہلے کے دو برسوں سے ایک درجہ بہتر تھا۔*

*پاکستان میں تحریکِ انصاف کی حکومت اگست 2018 سے برسراقتدار ہے اور مسلسل ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار اور اس سلسلے میں دعوے کرتی رہی ہے۔ اور ساتھ ساتھ عوام کو لوٹتی رہی ہے*
*عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف مافیا ہے اور تمام بڑے بڑے بزنس مین مافیا کو ان کی من پسند وزارتیں دیں گئی ہیں جنہوں نے عوام کو خوب لوٹا پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی جس کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے کچھ ارکان اسمبلی بھی کر چکے ہیں*
*لیکن خان صاحب اپنی انہی باتوں سے عوام کو الجھانا چاہتے ہیں کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا کسی کو نہیں چھوڑوں گا*

*عمران خان اور اس کی پارٹی کے تمام وزراء جھوٹے ہیں منافق ہیں اور کرپٹ ہیں اور ہمیشہ عوام سے ہی جھوٹ بولتے رہے ہیں*

*یہ میرے قوم کے سردار ، جھوٹ بولتے ہیں*
*یہاں پہ سارے ہی غم خوار ، جھوٹ بولتے ہیں*

*نہ ہے وہ مے، نہ وہ پیالہ ، نہ ہیں وہ میخانے*
*یہ رند جھوٹا ہے مے خوار جھوٹ بولتے ہیں*

*وہ ذائقہ تو پھلوں سے کسی نے چھینا ہے*
*پھلوں کے شکل میں اشجار جھوٹ بولتے ہیں*

*یہ اب سکوں جو نہیں ہے گھروں میں اس جیسا*
*تبدیلی جو آئی بھائی وزیراعظم جو جھوٹ بولتے ہیں*

*نہ دل میں پیار کسی کا، نہ ہے حسین کوئی*
*ہیں پیار جھوٹے تو دلدار جھوٹ بولتے ہیں*

*یہ میرے شہر کے حاکم بہت ہی جھوٹے ہیں*
*بڑے ہنر سے یہ ہر بار جھوٹ بولتے ہیں*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں