70

براڈشیٹ کی صاف اور شفاف انکوائری ہوئی تو بہت سے چہرے بے نقاب ہوں گے اعجازالحق

اٹک مرکزی صدر مسلم لیگ شہید ضیاء الحق ، سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق نے کہا ہے کہ براڈ شیٹ کے معاملہ پر وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے سابق جج شیخ عظمت سعید پر مشتمل ایک رکنی کمیشن تشکیل دیا ہے جو 2005 ء میں براڈ شیٹ سے معاہدہ کیا گیا تھا کہ وہ پاکستانی شخصیات کے غیر ملکی اثاثوں کی چھان بین کر کے ریکوری کرے گی تاہم براڈ شیٹ مطلوبہ نتاءج اس بناء پر حاصل نہیں کر سکی کہ ہماری پالیسیوں میں تسلسل نہیں ہے ایک چیئرمین نیب گئے تو دوسرے کی ترجیحات کچھ اور تھیں براڈ شیٹ میں پی پی پی ، مسلم لیگ ( ن ) کی اعلیٰ قیادت کے علاوہ بہت سے نام ہیں صاف اور شفاف انکوائری ہوئی تو بہت سے چہرے بے نقاب ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سابق اپوزیشن لیڈر ضلع کونسل اٹک ، سابق چیئرمین یونین کونسل ملہو والی ملک ریاض الدین اعوان ، ڈاکٹر ملک ظہیر الدین اعوان کے بھائی سابق ماہر تعلیم ملک منہاج الدین کی وفات پر ان کی رہائش گاہ پر اظہار تعزیت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر خان عبداللہ خان ، محمد اسماعیل قریشی ، سینئر صحافی تلہ گنگ چوہدری غلام ربانی ، میجر ریٹائرڈ وارث چوہدری ، چیئرمین اٹک پریس کلب رجسٹرڈ ندیم رضا خان ، وائس چیئرمین حافظ عبدالحمید خان ، بانی چیئرمین الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن لالہ محمد صدیق ، جنرل سیکرٹری لیاقت عمر ، سینئر صحافی جاوید کشمیری ، سرپرست اعلیٰ سینٹرل یونین آف جرنلسٹس پاکستان الحاج پرویز خان ، مرکزی سینئر نائب صدر فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پاکستان صوفی فیصل بٹ ، ضلعی سینئر نائب صدر ریجنل یونین آف جرنلسٹس اٹک جاوید خان ، سینئر صحافی فاروق خان ، جاوید اختر ملک ، پی ٹی وی کے معروف ڈرامہ نویس تصور بخاری اور دیگر موجود تھے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ایک بلین ڈالر کے اثاثے بنائے گئے اور براڈ شیٹ میں 65 ملین کا نقصان ہوا ہے یہ کمپنی اگر عالمی عدالت انصاف میں چلی گئی تو اسے ہر صورت پیسے ادا کرنے ہوں گے اسی وجہ سے نیب نے پہلے ہی پیسے فراہم کر دیئے ہیں نیب اور براڈ شیٹ کی انکوائریوں کے دوران جنرل مشرف کے دور میں این آر او ہوا ، معافی ہوئی اور انکوائریاں کیوں نہیں کی گئیں ملک لوٹنے والوں میں پی پی پی ، مسلم لیگ ( ن ) ، سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور دیگر شامل ہیں جنہوں نے قومی خزانے کو شیر مادر کی طرح لوٹا 700 ملین کا پی پی پی کا سرے محل اور 600 ملین ڈالر جو سویزرلینڈ کے بینکوں میں تھے کو قانونی پیچیدگیوں کی نذر کر دیا گیا سیاستدانوں ، صحافیوں ، سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کا اپنا اپنا نظریہ ضرورت ہے جن میں سے بعض کا نظریہ ضرورت اقتدار کا حصول ہے سویزرلینڈ میں پی پی پی کی قیادت کے اربوں روپے جو حکومت پاکستان کو ملنا تھے اور ان کی تحقیات قانونی پیچیدگیوں کی بھول بھلیوں میں مقررہ وقت ختم ہونے کے سبب ہمیشہ کیلئے سرد خانے میں ڈال دی گئیں اگر یہ جرم ثابت ہو جاتا تو اس میں ملوث سیاسی شخصیات ہمیشہ کیلئے سیاست سے نا اہل ہو جاتیں سعودی عرب میں بھی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر سابق صدر آصف علی زرداری نے سعودی کمپنی سے اربوں روپے کا معاہدہ کیا اور میری بطور وفاقی وزیر مذہبی امور مدت وزارت کے دوران حکومت پاکستان کو اربوں روپے سعودی کمپنی کو ادا کرنے پڑے پی ڈی ایم کا معاملہ چل رہا ہے اور انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے جو سیاسی جماعتیں اپنے نظریات اور اصولوں پر سمجھوتہ کریں اور اپنی نظریاتی پٹری سے اتر جائیں تو ان کا مقدر ناکامی اور شکست ہوتا ہے پی پی پی اور مسلم لیگ ( ن ) ایک دوسرے کو گالیاں دیتے رہے سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرنے والے سندھ میں زرداری کی سربراہی میں میٹنگ اور بے نظیر بھٹو کی برسی پر نعرے لگانے پر مجبور ہو گئے مہنگائی ، بے روزگاری ، گیس کی قیمتوں میں اضافے نے تحریک انصاف کی حکومت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اصولوں پر چلے بغیر سیاست ، صحافت اور اپوزیشن کامیاب نہیں ہوتی پی ڈی ایم کا اتحاد دراصل ’’ ابو بچاءو ، دادا بچاءو ‘‘ مہم ہے پی پی پی پی ڈی ایم کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اور انہوں نے اپنے معاملات درست کرنے کی طرف توجہ مرکوز کی ہوئی ہے وطن عزیز میں معاشی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں ڈاکہ زنی کی وارداتیں حد سے بڑھ گئی ہیں اور حکومت امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے علاوہ معاشی صورتحال کو بھی بہتر بنائے ایسی صورتحال میں دنیا بھر میں کھانے پینے کی چیزوں میں سبسڈی دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ہوش رباء اضافہ ہو چکا ہے حکومتی پالیسیوں کے سبب ٹیکس کی وصولی کی شرح انتہائی کم ہے ایل این جی کا سکینڈل آیا ہے تحریک انصاف کی حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب مہنگے داموں پیٹرول اور ایل این جی امپورٹ کیا گیا ہے مسلم لیگ شہید ضیاء الحق کیا ازسر نو تنظیم سازی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور جلد ہی چاروں صوبوں ، وفاق ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان میں اس کی تنظیم سازی شروع کی جائے گی فارن فنڈنگ کیس صرف تحریک انصاف کا نہیں بلکہ اس میں پی پی پی اور مسلم لیگ ( ن ) نے بھی ہاتھ رنگے ہیں مسلم لیگ ( ن ) کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر انہیں معلوم ہے کہ ان کو کہاں کہاں سے اور کس کس ملک سے فارن فنڈنگ ملتی رہی ہے محمد نواز شریف ، بے نظیر بھٹو ، آصف زرداری اور جنرل پرویز مشرف نے بھی فارن فنڈنگ حاصل کی اور اس میں بہت سے غیر ملکی ادارے اور غیر ملکی ممالک شامل تھے جو پاکستان میں حکومتیں بنانے اور بگاڑنے کیلئے بھاری فنڈنگ کرتے رہے انہوں نے کہا کہ سابق جج سپریم کورٹ شیخ عظمت سعید پر یہ الزام کہ وہ نیب کے سابق ملازم رہے اور سابق پراسکیو جنرل ریٹائرڈ میجر آدم خان کے ماتحت کام کیا اور اب وہ براڈ شیٹ میں کس طرح ان کے خلاف انکوائری کریں گے کہ تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ شیخ عظمت سعید ایماندار جج ہیں اور ان کا کام تحقیقات کرنا ہے انہوں نے کہا کہ وہ احتساب کے موجودہ نظام سے مطمئن نہیں اپوزیشن اور حکومت مل کر اس سلسلہ میں کوئی مثبت لاءحہ عمل طے کرے نیب کو پارلیمنٹ سے قانون سازی کے ذریعے اسی طرح بالا تر بنایا جائے جس طرح الیکشن کمیشن کو بنایا گیا ہے اور اس کو سیاسی بنیادوں پر انتقام کیلئے استعمال نہ کیا جائے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آرمی میں سزا اور جزا کا نظام تسلسل سے جاری رہتا ہے اور کئی اعلیٰ افسران ان الزامات کے تحت نہ صرف ملازمتوں سے فارغ ہوئے بلکہ ان کا کورٹ مارشل بھی ہوا اسی طرح عدلیہ میں بھی سپریم جوڈیشل کونسل ، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے احتساب کیلئے موجود ہے ہم نے کرپشن کو قانونی شکل دے دی ہے کسی وقت کرپشن کرنے والے کو معاشرے میں برا تصور کیا جاتا تھا اور آج دونوں ہاتھوں سے سلوٹ کرنا روایت بن چکا ہے عمران خان کے بارے میں یہ الزامات کہ انہیں فوج اقتدار میں لائی ہے تو محمد نواز شریف اور دیگر کو کون لے کر آیا اس کا بھی جواب دے دیا جائے موجودہ دور میں بعض وزراء کی ایسی حرکات ہیں کہ جو لطیفوں کی شکل میں عوام تک پہنچ رہی ہیں وفاقی وزیر غلام سرور خان بہت اچھے اور منجے ہوئے سیاستدان ہیں اور اپنے حلقہ انتخاب میں مقبول بھی ہیں تاہم وزیر اعظم کا کام ہے کہ وہ وزیروں کو ان کے مزاج اور قابلیت کے مطابق وزارت کا منصب دیں کیونکہ غلام سرور خان نے بطور وفاقی وزیر شہری ہوابازی ، پی آئی اے میں جعلی پائلٹ کا جو بیان دیا اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے بہت سے ممالک نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگائی اور اب اقوام متحدہ نے اپنے ملازمین کو پی آئی اے میں سفر کرنے سے روک دیا ہے اسی طرح پاکستان سے تعلق رکھنے درجنوں پائلٹ جو دنیا کی مختلف فضائی کمپنیوں میں پائلٹ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے کو کام سے روک دیا گیا جہاد افغانستان میں ان کے والد سابق صدر شہید جنرل ضیاء الحق نے جو خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں آج بھی افغانستان کی قیادت ان کی جانب دیکھتی ہے گل بدین حکمت یار نے دورہ پاکستان کے موقع پر ان سے تفصیلی ملاقات کر کے انہیں تجاویز دیں تاہم ان کے پاس حکومت کی جانب سے ثالث کا اختیار نہ ہونے کے سبب وہ افغانستان میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں جہاد افغانستان میں روس کی شکست کے بعد پاکستان کے کردار خاص طور پر آئی ایس آئی کو امریکہ نے شک کی نگاہ سے دیکھا اور اس کے مقابلہ کیلئے شمالی اتحاد کی مدد سے برطانیہ کو وہاں مسلط کر دیا خطے میں خصوصاً پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی میں سی آئی اے ملوث ہے جس کی معاونت را اور موساد کر رہی ہیں جے ایچ کیو ، آئی بی ہیڈکوارٹر ، آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر اور دیگر مقامات پر حملوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں 8 ہزار فوجیوں اور 80 ہزار عام شہریوں کی شہادتیں ہوئیں اس میں امریکہ ، موساد اور را ملوث ہیں بعد میں امریکہ کو احساس ہوا کہ پاکستان کے بغیر طالبان قیادت سے مذاکرات اور خطے میں امن ممکن نہیں ، نائن الیون کے بعد پاکستان دباءو میں رہا ہے ٹرمپ پاگل انسان تھا موجودہ امریکی حکومت سے پاکستان کے تعلقات بہتر رہنے کی توقع ہے تاہم ہماری خارجہ پالیسی میں تسلسل نہیں ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں