89

براڈشیٹ میں ملوث کردار حکومت کا حصہ ہے، تحقیقات کمیٹی مذاق ہے، اسفندیارولی خان

براڈشیٹ میں ملوث کردار حکومت کا حصہ ہے، تحقیقات کمیٹی مذاق ہے، اسفندیارولی خان
مسلط حکمران روز اول سے احتساب کے نام پر ملک اور عوام کے ساتھ کوئی کھیل کھیل رہے ہیں
اپنے ہی ہسپتال کے رکن کو تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنانے کا مطلب خود کو کلین چٹ فراہم کرنا ہے
عدلیہ کو بھی نوٹس لینا ہوگا تاکہ ادارے کو متنازعہ بنانے کی کوشش ناکام بنائی جائے
واٹس اپ فیصلوں اور جے آئی ٹیز کا معاملہ ابھی ہم بھولے نہیں، ایک اور متنازعہ کمیٹی بنائی جارہی ہے
واقعی احتساب کرنا ہے تو اسفندیارولی خان اور عمران خان سے احتساب کا آغاز کیا جائے
یوٹرن خان نے آج ایک اور یوٹرن لے لیا، ترقیاتی فنڈز کو سیاسی رشوت کہنے والے نے اراکین پارلیمنٹ کو فنڈز دے دیے
ہم روز اول سے کہہ رہے ہیں کہ انکو حکمرانی کی سمجھ بوجھ ہے نہ ہی یہ ملک چلانے کے اہل ہیں
پاکستان کو بدنامی، ناکامی، تنہائی اور عوام کو مہنگائی کے دلدل میں پھنسادیا گیا ہے
جسٹس (ر) عظمت سعید خود نیب کے وکیل رہ چکے ہیں، انہیں اخلاقاً اس کمیٹی کی سربراہی سے انکار کردینا چاہئیے
آج کل وہ جج بھی نظر نہیں آرہا جس نے عمران نیازی کو صادق اور امین قرار دیا تھا
ڈیم بابا نے فنڈز اکھٹے کئے، چوکیداری کے دعوے کرنیوالا اب دنیا بھر کے مزے لوٹ رہا ہے
عوامی نیشنل پارٹی پی ڈی ایم کے ساتھ کھڑی ہے اور نااہل حکمرانوں سے چھٹکارے تک ساتھ دے گی
پی ڈی ایم میں اختلافات کی گردان کرنے والے سن لیں، یہ تحریک حکومت کو گھر بھیج کر ہی دم لے گی

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ براڈشیٹ کے معاملے میں ملوث کردار خود حکومت کا حصہ ہے، انہیں کچھ نہیں کہا جارہا ہے لیکن دیگر سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کیلئے اب ججز کو بھی متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان عوام کے ساتھ ایک اور مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے کہا کہ مسلط حکمران روز اول سے احتساب کے نام پر ملک اور عوام کے ساتھ کوئی کھیل کھیل رہے ہیں ۔ اپنے ہی ہسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن کو تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ بنانا مذاق نہیں تو اور کیا ہے ۔ یہ حکمران خود کو کلین چٹ فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ واٹس اپ فیصلوں اور جے آئی ٹیز کا معاملہ ابھی عوام بھولے نہیں کہ حکومت ایک اور متنازعہ کمیٹی بنارہی ہے۔ عدلیہ کو بھی اس بات کا نوٹس لینا ہوگا تاکہ ادارے کو متنازعہ بنانے کی کوشش ناکام بنائی جائے ۔ انہوں نے ایک بار پھر عمران خان اور انکی حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ واقعی احتساب کرنا ہے تو اسفندیارولی خان اور عمران خان سے احتساب کا آغاز کیا جائے، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائیگا۔ فارن فنڈنگ کیس سے بھاگنے والے دوسروں کے احتساب کی بات کررہے ہیں۔ یہ احتساب نہیں سیاسی انتقام ہے۔ اسفندیارولی خان نے کہا کہ یوٹرن خان نے ایک اور یوٹرن لے کر اپنی عادت برقرار رکھی جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔ ترقیاتی فنڈز کو سیاسی رشوت کہنے والا عمران نیازی آج اراکین پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز دینے کی منظوری دے رہا ہے۔ اے این پی روز اول سے یہی کہہ رہی ہے کہ ان مسلط حکمرانوں کو حکمرانی کی سمجھ بوجھ نہیں اور نہ ہی یہ ملک چلانے کے اہل ہیں۔ پاکستان کو بدنامی ، ناکامی، تنہائی اور عوام کو مہنگائی کے دلدل میں پھنسادیا گیا ہے۔ اے این پی سربراہ نے کہا کہ جسٹس (ر) عظمت سعید خود نیب کے وکیل رہ چکے ہیں، انہیں اخلاقاً اس کمیٹی کی سربراہی سے انکار کردینا چاہئیے کیونکہ اس سے انکی ذات کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے وقار پر بھی انگلیاں اٹھے گی۔ اس سے پہلے بھی ایک جج صاحب ڈیم ڈیم کی گردان کرتے نہیں تھکتے تھے۔ آج کل وہ جج بھی نظر نہیں آرہا جس نے عمران نیازی کو صادق اور امین قرار دیا تھا۔ڈیم بابا نے فنڈز اکھٹے کئے، چوکیداری کے دعوے کرنیوالا اب دنیا بھر کے مزے لوٹ رہا ہے۔ اپوزیشن مخالف تحریک پی ڈی ایم کے حوالے سے اے این پی سربراہ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی پی ڈی ایم کے ساتھ کھڑی ہے اور نااہل حکمرانوں سے چھٹکارے تک ساتھ دے گی۔پی ڈی ایم میں اختلافات کی گردان کرنے والے سن لیں، یہ تحریک حکومت کو گھر بھیج کر ہی دم لے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں