69

اراضی سنٹر اٹک کی خاتون انچارج کی بد عنوانی کے کیس میں گرفتاری کے بعد عملہ مسلسل شہریوں کو تنگ کرریا ہے

اٹک میں اعلیٰ حکام کو جعلی اعداد و شمار اور اپنے مطلب کی تصاویر کے ذریعے سب اچھا کی رپورٹیں دے کر پاکستان اور پنجاب میں پہلے ، دوسرے نمبر حاصل کرنے والی ضلعی انتظامیہ اٹک کی ناقص ایڈمنسٹریشن ، سرکاری اداروں میں عام شہریوں کے ساتھ جانور سے بدتر سلوک اور شہریوں کی کسی بھی سطح پر کسی قسم کی کوئی شنوائی نہ ہونے اور رشوت کے بغیر کسی قسم کا کام کرانا اٹک میں جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گیا ، اراضی سنٹر اٹک جس کی خاتون سربراہ اور اہلکار کے خلاف محکمہ انسداد رشوت ستانی نے ایف آئی آر درج کر کے دونوں کو گرفتار کیا کے بعد اراضی سنٹر اٹک نے شہریوں کو تنگ کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے سروے کے دوران شہریوں نے بتایا کہ وہ عرصہ دراز سے اراضی سنٹر اٹک کے چکر لگا لگا کر تنگ آ چکے ہیں روزانہ نت نئے اعتراضات ، کھیوٹ بند ہونے ، کھیوٹ کھل جانے اور دیگر فنی وجوہات کی بناء پر شہریوں کو ناکوں چنے چبوانا اراضی سنٹر کے عملہ کا معمول بن چکا ہے ضلعی انتظامیہ کی ناقص ایڈمنسٹریشن اور پنجاب حکومت کی شہریوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں تنگ کرنے کے نت نئے منصوبوں کے تحت پنجاب کی 14 کروڑ آبادی کیلئے اراضی سنٹر میں فون کے ذریعے وقت لینا شیڈول میں شامل کر دیا گیا ہے اور یہ نمبر ملنا امریکہ کا ویزہ ملنے سے مشکل ہو چکا ہے شہریوں نے بتایا کہ رشوت دینے پر اراضی سنٹر سے ہر قسم کے کاغذات با آسانی فراہم کر دیئے جاتے ہیں عملہ پراپرٹی ڈیلروں کے ذاتی ملازم کی حیثیت سے کام کر رہا ہے اور بعض ملازم خود بھی پراپرٹی کی خرید و فروخت کے کاروبار میں ملوث ہیں درجنوں بار شکایات ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر کے ذریعے دنیا بھر سے داد تحسین وصول کرنے والے ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر نے اٹک سمیت ضلع کے دیگر اراضی سنٹر کا قبلہ درست کرنے کی جانب توجہ کرنے سے ہمیشہ کنارہ کشی اختیار کی ہے اور اٹک کی سیاسی قیادت بھی ضلعی انتظامیہ اٹک سے اپنے ذاتی کاموں اور خاص لوگوں کیلئے انہیں خصوصی سفارش کر کے اپنے کام نکلوا کر عام شہریوں کو اراضی سنٹر کے عملہ ، پٹواری سے لے کر ڈپٹی کمشنر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جو اپنے صوابدیدی اختیارات کا بھرپور استعمال کر کے شہریوں کی نہ صرف تذلیل ، ان کا قیمتی وقت ضائع بلکہ چمک کے بغیر کام کرنے کا بھی تصور ناممکن بنا دیا گیا ہے اراضی سنٹر پر آئے ہوئے مختلف افراد نے بتایا کہ وہ جائیداد فروخت کرنے اور خریدنے کیلئے یہاں پر آئے ہیں اور دونوں صورتوں میں جائیداد لینے اور فروخت کرنے والے کو چور سے بھی بدتر بنا دیا گیا ہے اور ہر زمین ، ہر خسرہ ، ہر کھیوٹ اور ہر موضع کو متنازعہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے جائیداد کا لین دین کرنے والے دونوں افراد یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے انہوں نے جائیداد فروخت کر کے یا خرید کر بہت بڑا گناہ کیا ہے اور وہ اگر قانون کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت کرتے تو یہ قیامت تک ممکن نہیں تھا انہوں نے بتایا کہ اراضی سنٹر اٹک جو کرپشن کا گڑھ ہے اور یہاں کی خاتون انچارج اور عملہ کی ریکارڈ میں جعلسازی کے سبب گرفتاری کے بعد سے 2 ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے روزانہ سینکڑوں افراد جائیداد کی خرید و فروخت کیلئے آتے ہیں ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر کی بدانتظامی اور ناقص ایڈمنسٹریشن سے اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے سینکڑوں شکایات کے باوجود اراضی سنٹر اٹک میں مستقل انچارج لگانے کیلئے تگ و دو کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جبکہ ہر ماہ کی یکم تاریخ کو لگائی جانے والی کھلی کچہری جو محکمہ مال سے متعلق ہوتی ہے میں سب اچھا کی رپورٹ وزیر اعلیٰ ، دیگر اعلیٰ حکام سمیت وزیر مال پنجاب کرنل ملک محمد انور خان جو اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب سے رکن پنجاب اسمبلی ہیں کو بھجوا دی جاتی ہے اور یہ تمام اعلیٰ سرکاری شخصیات ان رپورٹس پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں اسپیشل برانچ ، محکمہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ سیل بھی افسران کی خوشا مد میں سب اچھا کی رپورٹیں لکھنے میں مصروف ہے شہری دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اٹک جس کے وفاقی کابینہ میں 2 اور پنجاب کابینہ میں 2 وزیر موجود ہیں اس کے باوجود شہری دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں شہریوں نے بتایا کہ عملہ اراضی سنٹر کے بعض ملازمین ملازمت سے قبل 2 وقت کی روٹی کھانے سے بھی قاصر تھے آج کرپشن کر کے کروڑوں روپے کے مالک بن چکے ہیں اور غیر قانونی طور پر سارا دن پراپرٹی ڈیلروں کے مفاد کیلئے اپنے وسائل جس کی تنخواہ انہیں سرکار کی جانب سے ملتی ہے صرف کرتے ہیں اراضی سنٹر کے باہر درجنوں سائلین نے اراضی سنٹر اور ڈپٹی کمشنر اٹک علی عنان قمر کی ناقص ایڈمنسٹریشن کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیئے ۔
۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں