86

بھارت جمہوری نہیں بلکہ نو آبادیاتی فسطائی ریاست ہے، صدر آزاد کشمیر دہلی کے توسیع پسندانہ عزائم ہمسایہ ممالک اور پورے جنوبی ایشیاء کے امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ دنیا بھارت کو لگام دے اور اُسے ظلم سے روکے، یوم سیاہ کے موقع پر وویمن یونیورسٹی باغ کے سینٹ اجلاس سے خطاب۔

اسلام آباد( ) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت جمہوریہ نہیں بلکہ ایک نو آبادیاتی فسطائی ریاست ہے جس کے توسیع پسندانہ عزائم نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ پورے جنوب ایشیائی خطے کے امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ بھارت کا جموں وکشمیر پر ناجائز جابرانہ قبضہ اور اس کے حالیہ اقدامات کشمیریوں کو کسی صورت قبول نہیں ہے اور وہ بھارت کے آخری قابض فوجی کے انخلاء تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم اور حوصلہ رکھتے ہیں۔ بھارت کے یوم جمہوریہ اور کشمیریوں کی طرف سے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے موقع پر وویمن یونیورسٹی باغ کے سینٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آج آزاد جموں وکشمیر، مقبوضہ کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور اُن کے حمایتی بھارت کے یوم جمہوریہ کو اس لئے یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بھارت نے انگریزوں سے اپنی آزادی حاصل کرنے کے فوراً بعد مقبوضہ جموں وکشمیر پر حملہ کر کے کشمیریوں سے اُن کی آزادی چھین کر قتل و غارت گری کا جو سلسلہ تہتر سال پہلے شروع کیا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔ بھارت کے یہ تمام اقدامات اس ریاست کے فسطائی اور نو آبادیاتی ملک ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا بھارت مقبوضہ کشمیر میں آزادی، حق خودارادیت، بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا جمہوری مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کے خون کی ندیاں بہا رہا ہے جو اس کی فسطائیت پسندی اور نو آبادیاتی طاقت ہونے کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ، بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی سول سوسائٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدامات کا فی الفور نوٹس لے اور اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق جموں وکشمیر کے تنازعہ کے حل اور بھارتی حکومت کے ظلم و جبر اور کشمیریوں کی نسل کشی بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
وویمن یونیورسٹی باغ کو ریاست جموں وکشمیر کا قیمتی علمی اثاثہ قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ جامعہ کے موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید کی قیادت میں یہ یونیورسٹی ترقی کی منزل کی جانب گامزن ہے اور ہمیں امید ہے کہ جامعہ کے وائس چانسلر مستقل کیمپس کی تعمیر، مالی وسائل کے حصول اور معیاری فیکلٹی ہائیر کرنے جیسے اہداف کو جلد حاصل کر کے آزادریاست کی اس پہلی خواتین یونیورسٹی کو ترقی کی نئی راہ پر ڈال دیں گے۔ سینٹ کے اجلاس میں جامعہ باغ کے وائس چانسلر کے علاوہ وائس چانسلر یونیورسٹی آف پونچھ راولاکوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رسول جان، ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی، یونیورسٹی آف پشاور کی سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نور جہاں، فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ آمین قادر، پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، ظہیر الدین قریشی، محمد رضا چوہان، پروفیسر ڈاکٹر فاروق احمد، ڈاکٹر محمد شعیب امجد، محترمہ صاعقہ صغیر، محترمہ ثریا شام اور ڈاکٹر سیدہ صدیقہ فردوس نے بھی شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں