115

بنگلہ دیش میں آدم خور کے نام سے مشہور نوشہرہ کے جنرل آدم خان کے صاحبزادے اور نیب کے پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم خان نیب کے آدم خور نکلے

اسلام آباد ڈائری فائنل

 محسن رضا خان 

آخر کار پی ڈی ایم کی عمران خان کے خلاف ملک گیر تحریک اپنے انجام کو پہنچی جس کا سیاسی مبصرین کو شروع سے ادراک تھا  کہ جلسے جلوسوں سے کچھ حاصل نہ ہوگا  البتہ نواز شریف کے بیانئے نے  مقتدر قوتوں کو  سیاسی حکومت کے مزید  قریب کردیا گیا سندھ میں مفاہمت کی  سیاست کے بادشاہ آصف علی زرداری نے ان جلسے جلوسوں سے جو حاصل کرنا تھا وہ انہوں نے حاصل کرلیا اور طویل عرصے کے بعد وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں نئے کور کمانڈر، نئے ڈی جی رینجرز کے علاوہ صوبائی وزراء ناصر شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، آئی جی پولیس، پرنسپل سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ، کمشنر کراچی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، پی جی، مختلف اداروں کے صوبائی سربراہاں شریک اجلاس کو ڈی گئی بریفنگ میں بتایا گیا  کچھ گروپس پڑوسی ملک کی حمایت سے مسائل پیدا کرنا چاہتے ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مانیٹرنگ اور آپس میں کوآرڈینیشن سے حالات کنٹرول میں ہیں، کچھ قوم پرست گروپس بھی استعمال ہونے کیلئے ہمیشہ تیار ہیں، عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن جاری ہے،  تعلقات معمول پر آنے کے بعد یہ ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس تھا جس میں گورنر سندھ کی عدم شرکت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی حالانکہ گورنر ان ایپکس کمیٹیوں کا اہم حصہ تصور کئے جاتے تھے بلکہ خیبر پختون خوا میں تو گورنر ایک عرصہ تک ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کرتے رہے  سندھ میں کچھ عرصہ قبل تک مراد علی شاہ کی گرفتاری کی افواہیں گردش کررہی تھیں  وہاں  ایک مرتبہ پھر بلا شرکت غیرے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی  مراد علی شاہ صدارت کررہے ہیں جس میں اس مرتبہ گورنر بھی شریک نہیں تھے ان بدلتے ہوئے حالات پر کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا ہے کہ ” ‏ایک پی ڈی ایم اور کئی بیانیے۔بلاول کا عدم اعتمادپر زور ،احسن اقبال کےاس پر شکوک و شبہات اورمریم کا لانگ مارچ پر اصرار پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھرنےکاواضح ثبوت ہے ۔  شاہراہوں پر عوام کو گمراہ کرنے کیلئے نکلے تھے،عوام کی جانب سے مسترد ہونے کے بعد واپس ایوانوں کا رخ اختیار کر رہے ہیں ۔” پی ڈی ایم کی صورت حال کو سمجھنے کے لئے وزیر اطلاعات کا تبصرہ ہی کافی ہے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاونٹس اور میگا کرپشن کے اسلام آباد میں زیر سماعت کیس کراچی منتقل ہونے سے آصف علی زرداری کو بڑا ریلیف مل جائے گا ویسے بھی سندھ کی عدالتوں میں انصاف کے زمزمے بہہ رہے ہیں لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیر بلوچ پر قتل اور دہشت گردی کے مقدمات میں انہیں انصاف دھڑا دھڑ مل رہا ہے امید ہے کہ اب سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی انصاف کے ان سر چشموں سے” فیض” یاب ہونے کا موقع ملے گا  مقتدر حلقوں کی جانب سے مبینہ طور پر جلسے جلوسوں اور لانگ مارچ کے بجائے عدم اعتماد کی تحریک کا منترا  آصف علی زرداری اور اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے اختیار کرکے پی ڈی ایم کی  سیاست کی سمت کو ایک نیا رخ دے دیا ہے جس پر وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے سب سے پہلے بلاول بھٹو کے عدم اعتماد لانے کے بیان کا  خیر مقدم کیا اور انہوں نے کہا کہ بلاول اب بالغ ہوگیا ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ” ہم اور ہمارے حلیف تحریک عدم اعتماد کا سیاسی، جمہوری اور پارلیمانی انداز میں مقابلہ کریں گے اور انہیں شکست دیں گے  پی ڈی ایم کی صفوں میں اختلاف کھل کر سامنے آ چکا ہے  پی ڈی ایم ایک غیر فطری اور عارضی اتحاد ہے استعفوں کے معاملے پر مسلم لیگ ن میں مریم نواز اور شہباز شریف صاحب کی سوچ کا اختلاف منظرعام پر آ چکا ہے مولانا فضل الرحمن لانگ مارچ پر تلے ہوئے تھے لیکن بلاول بھٹو زرداری اسمبلیوں کا رخ اختیار کرنے کی بات کر رہے ہیں”  لیکن مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل پروفیسر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سینیٹ مین عددی اکثریت کے باوجود چیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا کا جو حشر ہوا وہ سب کےسامنے ہے  وزیراعظم عمران خان نے بھی پی ڈی ایم کی آئندہ کی حمکت عملی پر پارٹی ترجمانوں کا اجلاس بلایا ہے   ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جتنا وقت پارٹی ترجمانوں پر صرف کرتے ہئں اس سے تھوڑا وقت  وہ عوام کو درپیس مہنگائی اور بے روزگاری پر صرف کریں تو اس کے بہتر  نتائج برآمد ہونگے جبکہ مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کا اسلام آباد میں اجلاس ہورہا ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ نون کی مرکزی نائب صدر محترمہ مریم نواز کی آمد بھی متوقع ہے کیونکہ  مسلم لیگ نون کے کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور مسلم لیگ نون کی پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف جیل میں ہیں پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بھی  4 فروری کو طلب کرلیا گیا ہے  لیکن اس دوران دو اہم معاملات فارن فنڈنگ کیس اور براڈشیٹ کیس بھی کھل گئے ہیں براڈشیٹ کا معاملہ بقول وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے پانامہ 2  بننے جارہا ہے اور شریف فیملی کی مزید 100 ملین ڈالر کی جائیدادیں سامنے آسکتی ہیں براڈشیٹ کا معاملہ اتنا گنجلک ہوتا جا رہا ہے جس میں حکومت کو شفافیت پیدا کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو درخواست کرنی پڑے گی کہ وہ 3 یا 5 سینیر ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دیں جو میرٹ پر اس کیس کا فیصلہ کرے اس میں براڈشیٹ کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات بھئ کافی سنجیدہ نوعیت کے ہیں جس میں اہم افراد پر اربوں روپے کا کٹ [ کمیشن] لینے کے لئے ان سے رابطہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے نواز شریف کے اثاثوں کا کھوج لگاتے لگاتے پاکستان اربوں روپے لٹا چکا ہے لیکن وصولی ایک پائی کی نہیں ہوئی اس میں ایک مشکوک کردار کا تعلق نوشہرہ سے ہے فاروق آدم خان نائب کے پہلے پراسیکیوٹر جنرل تھے اور براڈشیٹ کے ساتھ معاہدے میں شامل تھے لیکن بعد میں اسی فراڈ شیٹ میں کنسلٹنٹ بن گئے اور پھر نیب کے خلاف کیس میں گواہ بھی بن گئے 

سابق چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید امجد نے برطانوی عدالت میں بتایا کہ براڈشیٹ نے پاکستان سے لوٹا گیا پیسہ واپس لانے کے لیے کچھ نہیں کیا، سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب فاروق آدم خان کا بیٹا براڈشیٹ کے پارٹنر کے لیے کام کر رہاتھا۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید امجد کا کہنا تھا کہ براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ متعلقہ وزارتوں سے منظوری کے بغیر کیا گیا، براڈشیٹ نیب کی دی گئی معلومات کو ہی ہدف کے خلاف استعمال کرتا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ براڈشیٹ نیب کو کوئی مفید معلومات دے سکا نا پیسہ واپسی میں مدد کر سکا
سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب فاروق آدم خان کا بیٹا براڈشیٹ کے پارٹنر کے لئے کام کر رہاتھا۔ضلع نوشہرہ سے تعلق رکھنے والا فاروق آدم خان جنرل آدم خان کا بیٹا تھا جسے مشرقی پاکستان میں آدم خور کے نام سے یاد کیا جاتا تھا یعنی اس معاملے میں بھی جرنیل اور ان کی اولادیں ملوث نکلیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں