88

سینٹ نے پیمرا ترمیمی بل دو ہزار بیس مسترد کردیا ورکنگ جرنلٹس اور میڈیا ورکرز کے حقوق کی جنگ کے خلاف اپوزیشن کا ہونا سمجھ سے بالا تر ہے، حکومتی سینیٹرز پیمرا ریاستی ادارہ ہے جسے حریفوں کے خلاف استعمال کیا گیا، اس بل کی وجہ سے پیمرا میڈیا کانٹریکٹس میں مداخلت کرے گا، شیری رحمن

اسلام آباد (این این آئی)سینٹ نے پیمرا ترمیمی بل دو ہزار بیس مسترد کردیا ،بل سے پیمرا کو میڈیا ورکرز کی نوکریوں اور ان کی رکی ہوئی تنخواہوں پر ایکشن لینے کا اختیار دینا تھا ۔ پیر کو اپوزیشن نے بل کی مخالفت کی ۔ شیری رحمن نے بل پر صحافتی تنظیموں سے مشاورت کی سفارش کی اور کہاکہ ہم صحافیوں کو تحفظ دینا چاہتے ہیں، کمیٹی نے یہ بل اتفاق رائے سے پاس نہیں کیا، پیمرا ملک میں سنسرشت کا ذریعہ بن چکا ہے، پیمرا ریاستی ادارہ ہے جسے حریفوں کے خلاف استعمال کیا گیا، اس بل کی وجہ سے پیمرا میڈیا کانٹریکٹس میں مداخلت کرے گا۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اس قانون کی وجہ سے میڈیا پر پابندیاں لگا سکے گی، میڈیا ورکرز کی آزادی کی آڑ میں پیمرا کو یہ اختیار نہیں دے سکتے، ماضی میں پیمرا کا ایک بہت برا یزیدی کردار رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس بل پر پی ایف یو جے اور دیگر صحافی تنظیموں سے مشاورت کی جائے، یہ بل بیک ڈور سے پاس کیا جا رہا ہے، صحافی باڈیز یے کام کر سکتیں ہیں، حکومت نے ان کو بااختیار کیوں نہیں کیا۔ اپوزیشن کی مخالفت پر قائد ایوان برہم ہوگئے اور کاہکہ آج دودھ کا دودھ پانی ہونا چاہئے کہ کارکنوں کے حق خلاف کون ہے ۔ شہزاد وسیم نے کہاکہ جو بھی ادارے چلانے ہیں اس میں کارکنوں کے حقوق کا تحفظ بھی ہونا چاہئے۔ سینٹر فیصل جاوید نے کہاکہ کارکنوں کے تحفظ پر بھی اپوزیشن سیاست کر رہی ہے،ورکنگ جرنلٹس اور میڈیا ورکرز کے حقوق کی جنگ کے خلاف اپوزیشن کا ہونا سمجھ سے بالا تر ہے۔ بل سینیٹر فیصل جاوید نے پیش کیا تھا۔
٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں